ایران میں مظاہروں کا دائرہ تہران، یزد، کرمانشاہ، شیراز، اور مشہد سمیت دیگر شہروں تک پھیل گیا، پُر تشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 133 ہو گئی ہے۔
خبر کے مطابق ،ایران میں پولیس کے ز یرِ حراست 22 سالہ مہسا امینی کی ہلاکت کے خلاف ایران سمیت دنیا بھر میں احتجاج کیا جا رہا ہے
مہسا امینی کی موت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا دائرہ مشہد، شیراز اور دارالحکومت تہران سمیت کئی شہروں تک پھیل گیا جبکہ ان پُرتشدد مظاہروں میں اب تک 133 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
خبر کے مطابق، ایرانی لڑکی مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے خلاف دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے، پُرتشدد احتجاج نے ایران کو مکمل طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
تہران کی شریف یونیورسٹی کے طلباء و طالبات نے بھی گزشتہ روز احتجاج کیا ، اس دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔
واضح رہے کہ 13 ستمبر کو مہسا امینی کو اخلاقی پولیس "ارشاد گشت” نے حراست میں لیا تھا جس کے دوران اس کی موت واقع ہوئی تھی ۔
