ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی سفیر کو طلب کیا ہے۔
برطانوی سفیر کی یہ طلبی اس مداخلتی بیان کے بعد ہوئی ہے جو برطانیہ کی وزارت خارجہ کی طرف سے ایران میں جاری صورت حال کے بارے میں دیا گیا ہے۔
ایران کی طرف سے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہےکہ برطانیہ کی طرف سے ان یکطرفہ بیانات کا مطلب یہ ہے کہ ایران میں موجودہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں برطانیہ کا بھی کردار ہے۔
اس امر کا اظہار ایرانی وزارت خارجہ میں ڈائریکٹر جنرل برائے مغربی یورپ نے یہ کہتے ہوئے کیا کہ برطانوی بیانات بے بنیاد ہونے کے علاوہ ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اشتعال انگیز تشریح پر مبنی ہیں۔
واضح رہے برطانوی وزارت خارجہ نے گزشتہ پیر کے روز کہا تھا کہ اس نے لندن میں ایرانی ناظم الامور کو ایران میں بائیس سالہ کرد مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد مظاہرین کے خلاف جاری مداخلت پر طلب کیا تھا۔
اس کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ نے برطانوی سفیر کو گزشتہ روز دفتر خارجہ طلب کر لیا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے کسی بھی غیرمعمولی اقدام کا ہر ممکن طریقے سے جواب دیا جائے گا۔
خیال رہے مہسا امینی کو 13 ستمبر کو ایرانی پولیس نے گرفتار کیا تھا ، وہ پولیس حراست میں ہی ہلاک ہو گئی تھی۔
