English Al Qamar Urdu جون 21, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

روس کی یوکرین کے خلاف جنگ ایک "صلیبی جنگ " ہے: شُولز

القمر

جرمن چانسلر اولاف شُولز نے کہا ہے کہ روس کی یوکرین کے خلاف جاری جنگ اصل میں مغرب اور اس کی اقدار کے خلاف ایک "صلیبی جنگ ” بھی ہے۔

شُولز نے دارالحکومت برلن میں "2022 ایڈوانس گورنس سربراہی اجلاس” میں بذریعہ ویڈیو پیغام شرکت کی۔

پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ "اس وقت دنیا مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ اس دور میں جمہوریت کے حامیوں کا باہم متحد ہونا ضروری ہے”۔

شولز نے کہا ہے کہ تقریباً ایک سال قبل تک جرمنی میں تین مختلف سیاسی پارٹیاں )سوشل ڈیموکریٹس پارٹی، گرینز پارٹی اور لبرلز پارٹی( ایک حکومت قائم کر رہی تھیں۔ ان پارٹیوں کا فریضہ ملک کو بحیثیت ایک معاشرے کے آزاد اور کشادہ  مستقبل کی طرف بڑھانا تھا۔ روس کی یوکرین کے خلاف جنگ نے اس فریضے کو مزید دشوار اور مزید ضروری بنا دیا ہے۔

انہوں نے لبرل ڈیموکریسی کے، سالوں سے، حملوں کی زد میں ہونے کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ "صدر ولادی میر پوتن کے زیرِ انتظام روس کے یوکرین پر قبضے  کے بعد سے یہ حملے مکمل طور پر ایک نئی شکل اختیار کر چکے ہیں”۔

شولز نے کہا ہے کہ "جرمنی اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر یوکرین کو مالی، اقتصادی اور اسلحے کا تعاون فراہم کر رہا ہے  اور کسی کو کوئی شبہ نہ رہے  کہ روس کی اس کھُلی مزاحمت کو توڑنے کے لئے جب تک ضرورت محسوس کی جاتی رہی ہم یہ مدد فراہم کرتے رہیں گے”۔

پیغام کے دوام میں چانسلر اولاف شولز نے کہا ہے کہ "ولادی میر پوتن اور ان کے مددگاروں نے ایک چیز کو واضح شکل میں ثابت کر دیا ہے کہ یہ جنگ صرف یوکرین کے خلاف ہی نہیں لڑی جا رہی بلکہ وہ اسے زیادہ بڑے پیمانے پر ایک صلیبی جنگ کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ وہ اس  جنگ کو، لبرل ڈیموکریسی کے خلاف، اصولی بین الاقوامی نظم و ضبط کے خلاف، آزادیوں اور ترقی کے خلاف اور ہمارے طرزِ حیات کے خلاف،   ایک صلیبی جنگ کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ وہ اسے ایک پورے خطّے، کہ جسے پوتن’  کمبائن مغرب  ‘ کہتے ہیں ،کے خلاف  صلیبی جنگ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ان کا اشارہ ہم سب کی طرف ہے۔ اس وجہ سے لبرل ڈیموکریسی اور امن کی حاکمیت کے لئے یوکرین کی فتح ضروری ہے”۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے