اقوام متحدہ میں یوکرین جنگ میں روس کے خلاف مزمتی قرار داد پیش کی گئی قرارداد بھاری اکثریت سے کامیاب ہو گئی۔ پاکستان نے ووٹنگ میں حصہ نہئ لیا۔
روس کے خلاف مزمتی قرارداد کے حق میں ایک سو تینتالیس مخالفت میں پانچ اور تینتیس ممبران نے حصہ نہئ لیا۔
پاکستان کے اقوام متحدہ میں نمائندہ منیر اکرم نے کہا ہے کہ طاقت کے زور پہ کوئی ریاست کسی دوسری ریاست یا علاقہ پہ قبضہ نہئ کرسکتی۔ ہم یوکرین کے حوالے سے اقوام متحدہ و دیگر اداروں کے دفعات کو تسلیم کرتے ہیں۔
پاکستان حق خود ارادیت کے اصول کو بھی مد نظر رکھتا ہے۔ یوکرین کی طرح پاکستان مسلہ کشمیر کو بھی اسی تناظر میں دیکھتا ہے۔ مسلہ کشمیر اور یوکرین کی جنگ میں بہت مماثلت ہے۔ ہندوستان نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری نہئ کی۔
ہندوستان نے جبر سے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبا کے رکھا ہوا ہے، روس کی طرح آخر ہندوستان کی مزمت کیوں نہئ کی جارہی ہے۔
بدقسمتی سے روس کے خلاف قرارداد کی توثیق نہئ کرسکتے
یوکرین میں ریفرنڈم سے بالا تر دفعات شامل ہیں جن کی پاکستان حمائت نہئ کرتا۔
یوکرین جنگ بندی کے لئے دی گئی تجاویز پہ بھی قرارداد پیش کرنے والے ممالک نے غور نہئ کیا۔
روس یوکرین جنگ کے فوری خاتمہ کے لئے دشمنی کی روش سے باہر نکلنا ہو گا۔روس یوکرین تنازعہ کو روکنا ہو گا وگرنہ نتائج پوری دنیا کے لیے انتہای خطرناک ہوں گے۔
روس کے خلاف قرار دار منظور پاکستان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا
القمر
