پاکستان کے میڈیا مالکان نیک لوگ ہی بن سکتے ہیں نیوز چینلز کھولتے ہیں۔ نیک نیتی سے چوتھے ستون کو مضبوط کرتے ہیں۔ نیک نیتی اور ایمانداری،، کی برکت سے بھی خوب ہوتی ہے ۔اتنی برکت کہ قدرت ان کا ہر کام آسان اور منافع بخش بنا دیتی ہے۔ پاکستان کے میڈیا مالکان۔ بزبس تائیکون بن جاتے ہیں۔ تعلیم ، کپڑا، گھی، تیل ، سگریٹ ، بیکری،جہاز، ہاوسنگ سوسائٹئز وغیرہ اتنی آسانی سے بن اور بک جاتی ہیں کہ مالکان کو خود حیران اور پریشان ہوجاتے ہیں۔ میڈیا مالک پر برکتوں کا نزول کیسے ہوتاہے یہ عمل باقی میڈیا مالکان خوب جانتے ہیں ،،، سب خاموشی سے اپنے اپنے حساب سے نیکیاں جمع کرتے رہتے ہیں۔ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔مل بیٹھ اتحاد اور اتفاق کے ساتھ مستقبل کی نیکیوں کا تعین کرتے ہیں۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ میڈیا کی کشتی میں سوار نیا نیا ملح جس پرپہلے سے ہی رحمتوں اور برکتوں کا بے شمار نزول ہوچکا ہو وہ ملاح اپنے کام میں کسی دوسرے کی مداخلت برداشت نہیں کرپاتا۔ اور کچھ ایسا کربیٹھتاہے جس کے بعد پچھتاوا مقدر بن جاتاہے۔
دنیا میں لڑائی کی صرف تین وجوہات ہیں ۔زر ، زمین اور زن ۔پاکستان کے دو بڑے چینلز کے مالکان نے زمین کے تنازعے پر ایک دوسرے پر حملے کردئیے ۔۔ حملے یعنی اپنے اپنے چینلز کے ذریعے ایک دوسرے پر حملے کئے
یہ دونوں میڈیا مالکان کون ہیں۔ان کے بارے بھی بات کرلیتے ہیں۔
ایک میڈیا مالک ایسا ہے جس کے چینل دو نمبروں پر مشتمل ہے۔جیسے دن میں کتنے گھنٹے ہوتے ہیں ؟ خیر موضوع پر واپس آتے ہیں۔ میڈیا مالک انتہائی جینئیس ہے ۔ بچین غریب میں گزرا ۔کالج یونیورسٹی کی فیس دوستوں سے لے کر جمع کروائی۔خاندان میں کچھ لوگوں کو لگا کہ لڑکا قابل ہے۔ملک سے باہر بھیجا۔اور نوجوان نے ایک غیر ملکی چینل جوائن کرلیا۔کم عمری میں دبلے پتلے نوجوان نے وقت کے ساتھ ساتھ جوڑ توڑ کا اتنا ماہر ہوگیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو مرحوم صاحابہ بھی کچھ ملاقاتوں میں اتنی گرویدہ ہوگئیں کہ بیٹا بنالیا۔اس میڈیا مالک کو اگر عیول EVILجینئیس کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ سابق صدر آصف زرداری بھی بڑا بیٹا مانتے ہیں۔ لاہور بلکہ پنجاب کی اہم ترین اور طاقتورترین شخصیات میں سے ایک شمار ہوتے ہیں۔اس میڈیا مالک کے پاس جب زیادہ پیسہ نہیں تھا لیکن ارادرہ تھا۔ارادے اور اپنی قابلیت کے بھروسے ایک چینل لائے۔ قومی سطح کا نہیں بلکہ علاقائی چینل۔اس چینل کو چلا کر کامیاب کرکے دکھایا۔دیکھتے ہی دیکھتے کچھ ہی سالوں میں ایک ایمپائر کھڑا کرلیا۔کھانے پینے کے کاروبار سے پراپرٹی اور تعلیمی اداروں سے لے کر بڑے بڑے ٹھیکے لاہور ، پنجاب سے نکل کر سندھ کراچی تک پہنچ گئے۔۔ حکومت کی تبدیلی میں اتحادیوں میں نمایاں رہے ۔۔
دوسرے چینل کا مالک ایک کامیاب ترین بزنس مین ، رئیل سٹیٹ کا بڑا نام ۔۔ سیاست میں بھی قدم جمانے کی کوشش کی لیکن بات نہ بن سکی ، ایک پھلتے پھولتے بڑی ریٹنگ والے مشہور چینل کو خرید لیا۔سیاست میں ناکامی کا غصہ چینل میں نظر آیا تو چینل سے ریٹنگ ناراض ہوگئی ۔۔ چینل سے کامیابی روٹھ گئی۔ایسی صورت حال میں چینل مالک نے دوسرے چینل مالک کے خلاف زمین پر قبضے کی خبر چلائی گینگ آف تھری کی لوٹ مار کے عنوان سے خبر چلائی۔
دونوں چینل مالکان کے درمیان لڑائی لاہور میں ۔ راوی اربن ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی وجہ سے ہوئی
خبر کو کافی دیر تک اسکرین کی زینت بنانے کی کوشش کی گئی۔
ایسی حرکت پر پہلا چینل مالک کیسے چپ رہ سکتا تھا۔پہلے مالک نے بھی اپنے چینل پر زمین پر غیر قانونی قبضے کی ایسی خبرچلائی کہ دوسرا مالک سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔پہلے مالک کے خلاف دوبارہ خبر نہیں چلاسکا اپنے چینل پر پہلے مالک نے دوسری بار پھر وہی خبر چلائی اور پیغام دیا کہ شیشے کے محل میں بیٹھ کر بندوق سے حملہ کیا ہے۔ یہ مت بھولیں ایسی 6 بندوقیں ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔
اب یہ لڑائی کہاں تک چلے گی۔کیا دونوں چینل مالکان ایک دوسرے مزید ایکسپوز کریں گے ؟ یا مل بیٹھ کر گینگ آف تھری کو گینگ آف فور بنالیں یہ آنے والا وقت ہی بتاسکتاہے ۔
