English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

تمام سیاسی جماعتوں کے ابراج گروپ سے کھاتے کھلے ہوئے ہیں، حافظ نعیم الرحمن

القمر

کراچیامیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں کے الیکٹرک کی حمایت کرتی ہیں ،گورنر ہاؤس کے الیکٹرک کے حامیوں سے آباد رہا ہے،تمام سیاسی جماعتوں کے ابراج گروپ میں کھاتے کھلے ہوئے ہیں۔

بجلی کے بلوں میں ناجائز ٹیکسز،فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اضافی وصولیوں کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں دائرپٹیشن کی سماعت کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ  کے الیکٹرک کو معاہدے کے مطابق پیداواری صلاحیت بڑھانے کا پابند کرنے کے حوالے سے عوامی مفاد کے حامل کیسز کی سماعت یقینی ہونا چاہیے ،عدالت کا کہنا ہے جو بھی ریلیف دیا گیا اس کا اطلاق ماضی سے کیا جائے گا،ہماری جدو جہد کے نتیجے میں چار روپے سے زائد  فی یونٹ کی کمی ہوئی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم بلدیاتی انتخابات کی مہم بھی راتوں میں چلاتے ہیں لیکن صبح عوام کے مفاد میں عدالتوں میں ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں کے الیکٹرک کی حمایت کرتی ہیں ،گورنر ہاؤس کے الیکٹرک کے حامیوں سے آباد رہا ہے،کراچی میں کینیپ اور لکی کے نجی پاور پلانٹ 4 ہزار سے زائد بجلی پیدا کررہے ہیں ،420 میگاواٹ بجلی کراچی میں جنریٹ ہورہی ہے ،اگر ہمیں نیشنل گرڈ سے کراچی کی بجلی دی جائے تو سستی بجلی مہیا ہوسکتی ہے،ملک میں زیادہ بجلی موجود ہے، کے الیکٹرک کو درمیان سے ہٹاکر کسی دوسری کمپنی کے سپرد کیا جائے تاکہ ان مافیا کو لگام دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ بڑی سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخابات سے فرار ہو نا  چاہتی ہیں ،الیکشن کمیشن کو صورتحال کو واضح کرنا چاہیے،بڑی پارٹیاں ضمنی انتخابات کے لئے بھاگ دوڑ کررہی ہیں لیکن بلدیاتی انتخابات کی فکر نہیں ہے  ۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے عوام موبائل ، بسکٹ اور جو صابن استعمال کرتے ہیں اس پے بھی ٹیکس دیتے ہیں،ن لیگ، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم کراچی کے عوام کا نہیں  بلکہ ان مافیاز کا ساتھ دیتے ہیں،لوگ 15 سال پیپلز پارٹی کی حکومت کا حساب لینگے ،ایم کیو ایم کی دہشت گردی کا بھی حساب لے رہی ہیں ،مافیاز کا مقابلہ جماعت اسلامی سے ہے ،بلدیاتی انتخابات ہم کرانا چاہتے ہیں، یہ بھاگ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس طرح سیاسی جماعتوں نے کراچی سے سلوک کیا کراچی بھی اب اس کا بدلا لے رہاہے اسی روئیے کی وجہ سے کراچی سیاسی جماعتوں سے ناراض ہے،ضمنی انتخابات میں ٹرن آؤٹ سے اس کا اندازہ ہوتا ہے،اسی وجہ سے ضمنی انتخابات میں ٹرن آؤٹ کم رہا ہےکراچی کے شہریوں کو ضمنی انتخابات کا نہیں بلدیاتی انتخابات کا انتظار ہے، عوام کو جماعت اسلامی پر یقین ہےکراچی کے عوام  چاہتے ہیں کے ہمارا میئر منتخب ہو عوام  چاہتے ہیں کے ہمارا  منتخب میئر پانی، بجلی، سڑک جیسے بنیادی مسائل حل کریگا ۔

انہوں نے کہاکہ ن لیگ نے کے الیکٹرک کی سہولتکاری کی ہے اس کے بعد عمران اسماعیل گورنر بنے لیکن اس وقت بھی کے الیکٹرک کی پوری سپورٹ کی گئی ہے  ،پی ٹی آئی کو بھی یہاں کے شہریوں نے مینڈیٹ دیا لیکن وہ کام کرنے کے بجائے آپس میں لڑتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو چاہیے وہ حکومت سندھ کے خطوط کو نظرانداز کر کے بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کا واضع اعلان کرے،حکومت سندھ بار بار خط لکھ کر لوگوں کو کنفیوز کرنا چاہتی ہے ،تاکہ عوام بڑی تعداد میں گھروں سے ووٹ ڈالنے کے لیے نہ نکلے اور ان کی اجارہداری برقرار رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے