English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اداروں کیساتھ ماضی میں عدلیہ اور سیاسی اشرافیہ نے بھی فاش غلطیاں کیں،وزیردفاع

القمر

اسلام آباد (انتظار حیدری)

وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کہتے ہیں پاک فوج اور آئی ایس آئی کی جانب سے حقیقت نہ صرف واضح کردی بلکہ ان کی جانب سے کی جانے والی پریس بریفنگ قابل تقلید ہے، اب سیاسی اشرافیہ کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کسی غیر جمہوری و غیر آئینی سہارے کی بجائے صرف عوام پر تکیہ کریں، اس کا حلف لیں، پاکستان حقیقی جمہوریت کی جانب بڑھ جائیگا، یقین سے کہتا ہوں ن لیگ کبھی کسی غیر جمہوری آسرے کا سہارا اب نہیں لے گی، ماضی میں بہت کچھ ہوا ہے اب آگے کی جانب بڑھنا ہے-

جمعرات کو ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس بریفنگ کے بعدخصوصی گفتگو کرتے ہوئے شفقنا نیوز نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف سے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں پاک فوج کی جانب سے سیاست میں کردار ادا نہ کرنے کا اعلان خوش آئند ہے مگر ایسا تو اس سے قبل 2007ء میں بھی ہوا تھا اور باقاعدہ اعلان بھی ہوا مگر پھر صورتحال کچھ عرصہ بعد ایسی بدلی کہ آج تک پاکستان لگتا ہے آگے کی بجائے جمہوریت میں پیچھے کی جانب جارہا ہے؟ اس کی بنیادی وجہ کیا یہ نہیں ہے کہ ادارے کے ساتھ ساتھ خود سیاست دان بھی اس کی بڑی وجہ ہیں؟ جب ادارہ اپنی غلطی تسلیم کررہا ہے تو سیاستدان کیوں اپنی غلطیوں سے نہیں سیکھتے؟

جواب میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ادارے نے اپنے کردار سے بڑھ کر کردار ادا کیا اور اس کا برملا بھی اظہار کیا گیا ہے، اپنی غلطی کو تسلیم کیا ہے اور اب اپنے آپ کو آئینی دائرے تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ خوش آئند ہے دیکھیں وہ واضح کرچکے ہیں کہ یہ فیصلہ کسی ایک فرد واحد کا نہیں طویل بحث کے بعد ادارے کا فیصلہ ہے جو خوش آئند ہے-

 

خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں سیاسی قوتوں نے بھی  75 سالوں میں فوجی آمریتوں کے ساتھ پس پردہ اپنا کردار ادا کیا ہے اور 2007ء میں وعدے کے باوجود کچھ عرصے بعد جو ہوا وہ واضح ہے مگر اب جب اعلیٰ سطح پر ایک آئینی کردار کے بارے میں فیصلہ ہوگیا ہے تو اس کو کھلے دل سے تسلیم  کرنا چاہیئے، ایک سیاسی کارکن اور وزیر دفاع کی حیثیت سے میں 100 فیصد اس بات سے متفق ہوں کہ سب کو آئین و قانون کی حدود میں جانا چاہیئے البتہ اس میں بھی شک نہیں کہ ہم سیاست دانوں نے ایک بار نہیں بار بار غلطیاں کیں، چند روز قبل میں نے پارلیمنٹ میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر جان مینگل کی تقریر کے بعد بھی اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ہم سے فاش غلطیاں ہوئی ہیں اور صرف سیاستدانوں سے یہ غلطیاں نہیں ہوئیں، اداروں کی صورتحال بھی ماضی میں آپ کے سامنے ہے، عدلیہ کا ماضی بھی دیکھا جائے تو اس کے بھی ہاتھ رنگے ہوئے ہیں اسی طرح بیورو کریسی کے ہاتھ بھی رنگے ہوئے ہیں- میرا خیال ہے کہ عام آدمی کی باری بڑی دیر سے آئے گی-

خواجہ آصف نے کہا کہ اب حکمران اشرافیہ کو فوج کی تقلید کرتے ہوئے اس چیز کا حلف لینا ہوگا کہ ہم اداروں سے مدد نہیں مانگیں گے، عدلیہ سے مدد نہیں مانگیں گے، افواج سے مدد نہیں مانگیں گے، بیورو کریسی سے مدد نہیں مانگیں گے اور صرف و صرف عوام سے مدد مانگیں گے وہ ہی ہمارے مدد گار ہونگے، وہ ہی ہمارے سہولت کار ہونگے اور وہی ہمیں پارلیمنٹ میں بھیجیں گے- یہ اصول طے کرنا ہوگا کہ کوئی اور مدد گار یا سہولت کار نہ ہو صرف پاکستان کے 22 کروڑ عوام ہی مدد گار و سہولت کار ہوں تو پاکستان حقیقی جمہوریت کی سیڑھیاں چڑھے گا- ایک اور سوال پر وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ شائد اب آپ کی تسلی ہوگئی تو جب ضمنی سوال پوچھا تو گویا ہوئے کہ دیکھیں میں یقین کے ساتھ کہہ رہا ہوں آپ نے انگریزی لفظ "فیتھ” استعمال کیا ہے کہ تو فیتھ کے ساتھ کہتا ہوں کہ اب ہم کم از کم غیر جمہوری آسرا یا سہارا نہیں لیں گے مگر کیا آپ کے میڈیا مالکان ایسا یقین دلاسکتے ہیں البتہ صحافی ضرور یہ یقین دلاسکتے ہیں کیونکہ دیگر اسٹیک ہولڈرز کی طرح میڈیا کا بھی جمہوریت میں بنیادی کردار ہے-

شفقنا اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے