یورپی رہنماؤں نے برازیل کے صدارتی انتخابات میں بائیں بازو کے سابق صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کی جیت پر مبارکباد کے پیغامات روانہ کیے ہیں ۔
یورپی یونین کمیشن کی صدر Ursula von der Leyen نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ "میں خوراک کی حفاظت سے لے کر تجارت سے لے کر موسمیاتی تبدیلی تک عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہوں۔”
یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے برائے خارجہ تعلقات اور سیکیورٹی پالیسی جوزپ بوریل نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں بشمول تجارت، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور ڈیجیٹل ایجنڈے میں اپنے شہریوں کے فائدے کے لیے برازیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو گہرا اور وسعت دینے کے لیے پرعزم ہیں۔”
جرمن صدر فرانک والٹر شٹائن مائر نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ ” وہ جلد ہونے والی ملاقات میں جرمنی اور برازیل کے تعلقات کو نئی جہت دینا چاہتے ہیں۔
جرمن چانسلر اولاف شولز نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ "میں برازیل کے ساتھ قریبی اور قابلِ اعتماد تعاون، خاص طور پر تجارت اور موسمیاتی تحفظ پر خوش ہوں۔”
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون لولا ڈی سلوا کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "مبارک ہو، پ ڈئیر لولا، آپ کے انتخاب پر، برازیل کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم رشی سوناک "میں عالمی معیشت کو بڑھانے سے لے کر کرہ ارض کے قدرتی وسائل کے تحفظ اور جمہوری اقدار کو فروغ دینے تک، برطانیہ اور برازیل کے لیے اہم مسائل پر مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔”
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ "ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف اور سماجی انصاف اور مساوات کے لیے مل کر کام کریں گے۔ آپ کی کامیابی برازیل کے لوگوں کی کامیابی ہے۔۔ لولا آپ کو مبارک ہو۔
پرتگالی وزیر اعظم انتونیو کوسٹا نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ "میں آنے والے سالوں میں پرتگال اور برازیل کے حق میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ کرنے کا منتظر ہوں۔
ہالینڈ کے وزیر اعظم مارک روٹے نے کہا ہے کہ میں مضبوط ڈچ-برازیل تعلقات کو گہرا کرنے اور عالمی چیلنجوں پر مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں”۔
یونانی وزیر اعظم کریاکوس میتچو تاکیس نے لولا ڈا سلوا کی نئے عہدے پر کامیابی کی تمنا کی ہے۔
