صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے امریکہ سے ترکیہ کو ایف 16 طیاروں کی فروخت کے حوالے سے کہا، ’’اس کا صحیح اندازہ لگانا آسان نہیں ہے، لیکن آئندہ کے ایک دو ماہ میں اس عمل کی تکمیل کا احتمال قوی دکھائی دیتا ہے۔
صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے ایک ٹیلی ویژن چینل پر براہ راست نشریات میں ایجنڈے پر سوالات کے جوابات دیئے۔
قالن نے ایک سوال کہ ، "کیا امریکہ ترکیہ کو F-16 دے گا؟” کے جواب میں کہا کہ اس وقت یہ عمل جاری ہے اور امریکہ میں 8 نومبر کو ہونے والے مڈ ٹرم الیکشنزکے بعد نیا ڈھانچہ سامنے آئے گا۔
بحیرہ اسود کے علاقے میں اناج کی راہداری کے دوبارہ فعال بننے کے سلسلے کی وضاحت کرتے ہوئے ابراہیم قالن نے کہا کہ اناج راہداری کے ذریعے لاکھوں ٹن اناج کی ترسیل کو ممکن بنایا گیا ہے اور اسے روکنے سے اناج کے نرخوں میں بہت زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔
صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے ترکیہ میں قدرتی گیس کے ایک بڑے مرکز کے قیام کے حوالے سے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے بیانات کا بھی جائزہ لیا۔
قالن نے مزید کہا کہ ترکیہ کا توانائی بنیادی ڈھانچہ اور پائپ لائنیں اس صلاحیت کو لے جانے کے لیے موزوں ہیں۔
