ترکیہ نے گزشتہ دس ماہ کے دوران بحیرہ ایجیئن میں یونان کی جانب سے موت کے دہنے پر ترک کیے جانے والے 18,487 غیر قانونی تارکین وطن کو زندہ بچا لیا گی ہے ۔
بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن، جو نئی زندگی کی امید میں اپنے خاندانوں کے ہمراہ اس سفر پر نکلتے ہیں یونانی عناصر کے ہاتھوں مار پیٹ کے بعد ترکیہ کے علاقائی پانیوں میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔
ان تارکین وطن کی کشتیوں کے انجن توڑنے کے بعد ان کو سمندر کے بیچوں بیچ بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے آخری امید ترک کوسٹ گارڈ کی ٹیمیں ہوتی ہیں جو ان تارکین وطن کی مدد کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے ان کو زندہ بچاتی ہیں۔
کوسٹ گارڈ کمانڈ کی ٹیموں نے یکم جنوری سے 31 اکتوبر کے درمیان چناق قلعے، ، بالک ایسر، ازمیر، آیدن اور موعا میں 18,487 غیر قانونی تارکین وطن کوزندہ بچایا ہے۔
ترکیہ کے پانیوں میں واپس دھکیل دیے جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد اگست میں 3,259 تھی۔
اسی عرصے میں 11,541 غیر قانونی تارکین وطن بیرون ملک جانے کی کوشش کرتے ہوئے پکڑے گئے۔
ایک بار پھر اس مدت میں، بحیرہ ایجین میں 18 غیر قانونی تارکین وطن کی لاشیں ملی ہیں۔
