اسلام آباد : سینیٹ کی خصوصی کمیٹی میں ایف آئی اے حکام نے انکشاف کیا کہ اعظم سواتی اور مسلم لیگی رہنما زبیر عمر کی وڈیوز جعلی تھیں۔ ہمارے پاس واٹس ایپ پر نظر رکھنے کے لیے کوئی طریقہ کار نہیں اگر پی ٹی اے یا ایجنسیوں کے پاس کوئی نظام ہو تو کہہ نہیں سکتے۔اعظم سواتی کی جعلی وڈیوڈیرہ اسماعیل خان میں بنائی گئیں۔
سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی مولانا عبدالغفور حیدری کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں سینیٹر فیصل سبزواری، ڈاکٹر مشتاق احمد، سینیٹر دلاور خان، سلیم مانڈوی والا کے علاوہ ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی کی جعلی وڈیو کے بارے میں تفصیلی غور کیا گیا۔
ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں سوشل میڈیا کی بھرمار ہے جس پر چیک رکھنے کے لیے نہ تو ملک میں کوئی قانون ہے اور نہ ہی ہمارے پاس وسائل ہیں۔ انہوں نے بریفنگ میں بتایا کہ سوشل میڈیا پر ایسی وڈیوز گردش کرتی رہتی ہیں جو چیک کرنے پر معلوم ہوتی ہیں کہ وہ جعلی بنائی گئی ہیں۔
اراکین کمیٹی کے سوال کے جواب میں حکام نے بتایا کہ اعظم خان سواتی نے اس بارے میں ایف آئی اے حکام کو کوئی درخواست نہیں دی،جس کو بنیاد بنا کر ہم اس کی تحقیقات کر سکیں، اب تک ہم نے تحقیقات کا عمل شروع نہیں کیا، البتہ میڈیا پر بحث کا موضوع بننے کے سبب وزارت داخلہ نے ہم نے رابطہ کیا جس پر ہم نے جب اس کو چیک کیا تو یہ جعلی نکلی ہیں جس کا مقصد ایسی شخصیات کو متنازع بنانا اور مذموم مقاصد حاصل کرنا ہوتا ہے۔
سینیٹر ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ مغربی دنیا میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے باقاعدہ میکنزم و ضابطہ کار موجود ہے، اس سلسلے میں نہ صرف انہوں نے قانون سازی کی بلکہ ایسے آلات بھی ان کے پاس ہیں جن سے وہ کنٹرول کر سکتے ہیں۔ بتایا جائے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا کا لائسنس جاری کرتے ہوئے کوئی ضابطہ کار یا ایس او پیز بنائی گئیں یا انہیں شتر بے مہار چھوڑ دیا گیا، جس پر ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سوشل میڈیا کو پاکستان میں کام جاری رکھنے کے لیے کسی ضابطہ کا پابند نہیں بنایا گیا نہ ہی اس بارے میں کوئی مروجہ قوانین بنائے گئے جس کی وجہ سے ہم انہیں پابند نہیں کر سکتے۔
چیئرمین کمیٹی مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ابھی تک اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا گیا، جس پر سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ چیئرمین صاحب کا مقصد یہ ہے کہ رات کے اندھیرے میں تو اعظم سواتی سوشل میڈیا پر ٹویٹ کرتے ہیں انہیں راتوں رات گرفتار کرلیا جاتا ہے جبکہ دن کے اجالے میں ایسی وڈیوز بنائی جاتی ہیں جن کے ملزم آزاد گھوم رہے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر مشتاق احمد نے کہا کہ زبیر عمر کی بھی ایسی ہی وڈیو مارکیٹ میں پھیلائی گئی، بعد میں اعلیٰ حکام نے ان کے گھر جا کر بریفنگ دی کہ وڈیو جعلی ہے جس سے ان کے گھر والے تو مطمئن ہو گئے لیکن ان کا جو تشخص برباد ہوا ہے وہ آج بھی کسی سے آنکھ نہیں ملا سکتے۔
