اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنا کے باعث سڑکوں کی بندش کیخلاف کیس میں آئی جی اسلام آباد کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے مفصل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیدیا۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی وزارت داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری شبیر خٹک عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے کہا کہ موٹروے سبجیکٹ ہے فیڈرل حکومت کا حکومت موٹروے کو کیوں نہیں کھلواتی اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ لاء اینڈ آرڈر صوبائی حکومت کا معاملہ ہے اس لیے بند ہوتا ہے۔
اس موقع پر عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ کے سامنے بھی احتجاج ہوتا ہے پھر وہ کیوں آپ بند کرتے ہیں پورے اسلام آباد میں کنٹینر ایسے پڑے ہیں جیسے کوئی اور ہی حالات ہیں اچھی سی رائیٹ فورس کیوں نہیں بناتے کنٹینر کیوں لگاتے ہیں کنٹینر لگانے کی بجائے کوئی اور کیوں نہیں طریقے استعمال کرتے؟
درخواست گزاروں کی جانب سے سردار عمر اسلم ایڈووکیٹ عدالت کے سامنے پیش ہوئے درخواست میں کہا گیا کہ اپریل میں حکومت کی تبدیلی کے بعد سے اب تک احتجاج کیے جارہے ہیں آزادی مارچ دھرنا کا اعلان اور قائدین کی ہدایت پر سڑکیں بند کردی گئیں۔
شہریوں اور تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں درخواست میں استدعا کی گئی کہ حکومت کو سڑکیں خصوصاً موٹروے پر ٹریفک روانی برقرار رکھنے کی ہدایت کی جائیپی ٹی آئی کو پابند کیا جائے دھرنا اور جلسہ کا انعقاد اسلام آباد سے باہر کریں کیس کی سماعت 17 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔
