۔۔۔ روزنامہ حریت: "ترکیہ اقتصادی بڑھوتی میں ریکارڈ توڑ ڈالے گا” کی سرخی سے لکھتا ہے کہ صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ہم اپنے "ترکیہ سو سالہ پروگرام” کے ساتھ جمہوریہ ترکیہ کے قیام کی 100 ویں سالگرہ یعنی 2023 کا آغاز شاندار امیدوں اور جوش و خروش کے ساتھ کریں گے۔ 2022 کی تیسری تہائی میں ترکیہ کی 3،9 فیصد اقتصادی بڑھوتی کا ذکر کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا ہے کہ "انشاء اللہ ہم 2022 کو ایک ریکارڈ ترقی کے ساتھ ختم کر کے 2023 کا ایک اچھا آغاز کریں گے”۔
۔۔۔ "چاوش اولو کی طرف سے آپریشن کے بارے میں بیان ” یہ سرخی ہے روزنامہ حریت کی۔ اخبار لکھتا ہے کہ وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ شام کے شمال میں علیحدگی پسند دہشت گرد تنظیم PKK/YPG کے خلاف ممکنہ برّی آپریشن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہم نے اس کا ضروری جواب دے دیا اور ہم اپنے نیٹو اتحادیوں کی طرف سے تعاون کے منتظر ہیں”۔
۔۔۔ روز نامہ صباح: ” آپریشنوں میں ہمارا واحد ہدف دہشت گرد ہیں” کی سرخی سے لکھتا ہے کہ وزیر دفاع حلوصی آقار نے اپنے امریکی ہم منصب لائڈ جیمز آسٹن کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کی۔ مذاکرات میں آقار نے کہا ہے کہ شام کے شمال میں ہمارے آپریشن دہشت گردی کے خلاف اور جائزہ حقِ خود حفاظتی کے دائرہ کار میں کئے جا رہے ہیں۔ آقار نے کہا ہے کہ ہم داعش سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف تعاون کے لئے تیار ہیں۔ آپریشنوں میں ہمارا واحد ہدف دہشت گرد ہیں۔
۔۔۔روزنامہ ینی شفق نے اپنی خبر کے لئے” روس کی طرف سے PKK/YPG کو وارننگ: پیچھے ہٹ جائیں ورنہ ترکوں کو روکا نہیں جا سکے گا ” کی سرخی لگائی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ شام میں اپنے گِرد حلقہ تنگ ہونے کے بعد PKK/YPG نے روس اور امریکہ کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔ شام میں روسی فورسز کے کمانڈر الیکزینڈر چائیکو نے کہا ہے کہ ترکیہ کو روکنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ PKK/YPG عین العرب، منبچ اور تل رفات سے نکل جائے۔ چائیکو نے PKK/YPG کو پیغام دیا ہے کہ” اگر ترک آپریشن شروع ہو گیا تو روس اسے روک نہیں سکے گا”۔
۔۔۔”اعتراف: امریکہ ،ترکیہ کو طیش دِلانے کا خواہش مند نہیں ہے” یہ سرخی ہے روزنامہ اسٹار کی۔ اخبار نے بحوالہ ‘امریکن رسپانس ایبل اسٹیٹ کرافٹ’ جریدے کے لکھا ہے کہ ترکیہ، شام میں اپنے دشمنوں کی جڑیں اُکھاڑنے کے لئے ایک طویل عرصے سے بے مثال وسیع پیمانے کے برّی آپریشن کی تیاریوں میں ہے۔ امریکہ کی بائڈن انتظامیہ، یوکرین جنگ میں، ترکیہ کو ایک اہم اتحادی کے طور پر دیکھتی ہے لہٰذا وائٹ ہاوس فی الوقت ترکیہ کی ناراضگی مول لینا نہیں چاہتا۔
