2021 میں دسمبر کی 20 تاریخ کو جمعیت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے سراوان ہاؤس کوئٹہ کا دورہ کیا تھا۔ جہاں انہوں نے نواب اسلم رئیسانی کی دعوت پرچائے پی تھی۔
اس کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیا تھا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے اس موقع پر کہا تھا: ’میں مستونگ سانحے کی تعزیت کے لیے جارہا تھا تو ہمیں بتایا گیا کہ نواب اسلم رئیسانی نے خواہش ظاہر کی ہے کہ ہم ان کے ساتھ چائے پئیں۔
’نواب اسلم رئیسانی نے جو چائے پلائی اور اس میں ان کی طرف سے جو مٹھاس تھی۔ جس کی وجہ سے مجھے اس میں چینی ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑی۔‘
نواب اسلم کو شمولیت کی دعوت کے سوال پر مولانا فضل الرحمٰن نے جواب دیا تھا: ’نواب اسلم رئیسانی جہاں دیدہ آدمی ہیں۔ سیاست ان کے گھر کی لونڈی ہے۔ اور ان کی ملکی اور صوبے کی سیاست پر گہری نظر ہے۔ بحرحال فیصلہ تو انہوں نے کرنا ہے۔‘
مولانا فضل الرحمٰن کی نواب اسلم رئیسانی سے ملاقات کے ایک سال بعد انہوں نے دسمبر کے مہینے میں ہی جمعیت میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
گوکہ اس وقت بلوچستان کی سیاست میں تبدیلی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ قوم پرستوں میں توڑ پھوڑ اور مذہبی جماعتوں میں لوگوں کی شمولیت کے بعد تجزیہ کار آنے والے الیکشن میں مذہبی جماعتوں کے پلڑے کو بھاری دیکھتے ہیں۔
