English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

صدر ایردوان اناج کے بحران پر صدر ولادیمیر پوتن اورصدر ولادیمیر زیلنسکی سے ٹیلی فونک رابطہ کریں گے

القمر

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ وہ اناج کے بحران کو حل کرنے کے لیے اتوار کو روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔

استنبول میں TRT ورلڈ فورم 2022 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے اس حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ اس سال کا فورم ایک ایسے وقت میں منعقد ہورہا  ہے  جب عالمی سطح پر نئی قسم کی کورونا وائرس کی وبا اور روس-یوکرین جنگ دونوں کی وجہ سے تناؤ بڑھ  میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  روس اور یوکرائن کی جنگ میں ہونے والے بھاری جانی نقصان کے علاوہ، خطے اور دنیا کے لیے بہت سنگین انسانی، اقتصادی اور سیاسی قیمت چکانا پڑرہی ہے۔ ، ایردوان نے کہا کہ وہ امن کےقیام کے بڑے پیمانے پر سفارتی ٹریفک  کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔  انہوں نے کہا کہ وہ  یوکرین کی علاقائی سالمیت کے  تحفظ کا بڑَ ے پیمانے پر دفاع  کرنے   اور  روس کےخلاف  غیر دانشمندانہ پالیسیوں کی وجہ سے  علاقے میں آگ بڑھکانے  کی  مخالفت کرتے چلے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے یوکرین اور روس سے اہم مصنوعات، خاص طور پر اناج کی کھیپ نے یورپ سے لے کر افریقہ تک تمام ممالک کو متاثر کرنے والے عالمی غذائی بحران کا موجب بنا ہے ۔  ایردوان نے کہا کہ وہ اس بحران کو حل کرنے کے لیے اتوار کو پوتن اور زیلنسکی سے ملاقات کریں گے۔

صدر ایردوان نے   F-16 کی خریداری پر امریکہ سے اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان ان لوگوں  کو بھی کچھ نہیں  کہا ہے  جو بغیر کسی حساب کتاب کے ایجیئن اور بحیرہ روم میں یونان کے اشتعال انگیز اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  ترکیہ جن دہشت گرد تنظیموں سے لڑ رہا ہے، خفیہ طور پر حمایت کرنے والے یورپ کے ساتھ مشترکہ مستقبل کا تصور کرنا  بڑا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ تمام قربانیوں کے باوجود، ہماری  قومی سلامتی کے لیے خطرہ  تشکیل دینے والی  تنظیموں کے خلاف   ہماری جدو جہد میں ہمیں تنہا چھوڑنے  کے عمل کو کبھی بھی نہیں بھول سکتے ہیں۔  شمالی شام میں دہشت گرد تنظیموں کو ہتھیاروں اور گولہ بارود کے ہزاروں ٹرک بھیجے گئے۔ اور بھیجنے والے ممالک  ہمارے نیٹو کے اتحادی ممالک ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جدو جہد   میں کوئی ہم سے حساب نہیں پوچھ سکتا ہے۔ ہم نے اپنے ملک کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے  فوجی آپریشن  شروع کرتے ہوئے اپنے  پر عظم ہونے کا واضح  اعلان کردیا ہے۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے