ترکیہ کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ الجزائر اور ترکیہ کا باہمی تعاون پورے علاقے کے لئے مفید ہو گا۔
چاوش اولو نے الجزائر کے وزیر خارجہ ‘رامتانے لامامرا’ کے ساتھ "ترکیہ۔الجزائر کمبائن پلاننگ گروپ” اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں شرکت کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا ہے کہ مذاکرات میں ہم نے الجزائر کے ساتھ تجارت، زراعت، ماہی گیر، صنعت، انرجی، جہاز رانی، عسکری، دفاعی صنعت، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر غور کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ دو طرفہ تجارت میں گذشتہ سال 30 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا جو رواں سال میں 5 بلین ڈالر سے تجاوز کر جائے گا۔ ہم دونوں ممالک کے درمیان 10 بلین ڈالر کے تجارتی حجم تک رسائی کے لئے ہر طرح کے اقدامات جاری رکھیں گے۔
دنیا میں انرجی بحران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وزیر خارجہ چاوش اولو نے کہا ہے کہ ترکیہ اور الجزائر کے درمیان قدرتی گیس کی تجارت، کان کنی اور معدنیات کی تلاش کے مشترکہ منصوبوں جیسے مختلف پہلووں پر انرجی تعاون جاری ہے۔ ہم نے اپنے ہم منصب کے ساتھ رسل و رسائل، بحری رسل و رسائل اور مشترکہ شپ یارڈنگ کے موضوعات کا بھی جائزہ لیا ہے۔
چاوش اولو نے کہا ہے کہ "دسمبر کے آغاز سے ہم نے ترکیہ۔الجزائر کے درمیان ہفتہ وار پروازوں کی تعداد 55 کر دی ہے جو دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط میں اضافے کا سبب بنے گا”۔
انہوں نے اپنے ہم منصب کے ساتھ دونوں ملکوں کے درمیان عسکری تعاون اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں ممکنہ اقدامات کا بھی جائزہ لیا اور فیتو دہشت گرد تنظیم کے خلاف جدوجہد میں اجزائر کے ترکیہ کے ساتھ بھرپور تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا۔
فلسطین کے معاملے میں ترکیہ اور الجزائر کے ہم فکر ہونے اور اس سوچ کے ناقابل تغیر ہونے پر زور دیتے ہوئے چاوش اولو نے کہا ہے کہ بحیثیت ترکیہ، ہم،فلسطینی فریقوں کے درمیان مفاہمت کے لئے، الجزائر کے قابلِ قدر اقدامات کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے اور ان کوششوں پر الجزائر کے حکام کے شکر گزار ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ لیبیا میں پائیدار امن اور استحکام کے موضوع پر بھی ہم الجزائر کے ساتھ ہم فکر ہیں۔ میں، وزیر خارجہ رامتانے کو انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کی بھی دعوت دینا چاہتا ہوں”۔
