اسلام آباد: پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد متاثرین کی بحالی کے لیے جاری اقوام متحدہ کی سرگرمیاں معطل ہونے کا خدشہ ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے کوآرڈی نیٹر جولین ہارنیز اور دیگر عہدیداران نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ہمارے پاس فنڈز 15 جنوری کو ختم ہو جائیں گے، جس کی وجہ سے امدادی سرگرمیاں وقت سے قبل ہی معطل ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عالمی برادری سیلاب زدہ پاکستان کی بھرپور امداد یقینی بنائے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
عالمی ادارے کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ سیلاب کے تین ماہ بعد حالات مزید بگڑ گئے ہیں اور ہمیں بحالی کی امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈنگ درکار ہے، کیوں کہ محدود فنڈنگ کی وجہ سے تمام ضروریات پوری کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صحت سے متعلق امداد 6.4 ملین لوگوں کے بجائے صرف 1.8 ملین لوگوں کو دی گئی ہے جب کہ غذائی امداد 3.9 کے بجائے صرف 1.5 ملین لوگوں کو دی گئی۔
مزید پڑھیں: سیلاب سے بے گھر افراد کی بحالی میں میری حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے،مراد علی شاہ
عالمی ادارے کے عہدیداروں نے اپیل کی کہ بیرون ملک پاکستانی اپنے بہن بھائیوں کی مدد کریں۔ یہاں اسکولوں اور صحت کے مراکز بنانے کی ضرورت ہے۔ سردیاں گزارنے کے لیے مزید فنڈز درکار ہیں۔ بڑھتی ہوئی تعداد سیلاب متاثرہ علاقوں میں غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو رہی ہے۔سیلاب بحالی کے لیے ہمارے پاس فنڈز 15 جنوری کو ختم ہو جائیں گے۔
یہ خبر بھی پڑھیں: سیلاب کے 4 ماہ بعد بھی کاچھو کے مکین بے یارو مددگار،حکومتی مدد کے منتظر
اقوام متحدہ کے عہدے داروں کا کہنا تھا کہ 2 لاکھ افراد بے گھر ہیں۔ لوگ بے سرو سامانی کے عالم میں ہیں جب کہ بڑھتی مہنگائی کے باعث نئے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ 34 ہزار سے زائد اسکولوں کی عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔ خواتین اور خواجہ سراؤں کے جنسی تشدد اور استحصال کا خطرہ ہے۔پانی سے پھیلنے والی بیماریاں بڑھ رہی ہیں جب کہ فی میل ڈاکٹرز کی کمی کا بھی سامنا ہے۔
عالمی ادارے کے عہدے داروں نے بتایا کہ دسمبر سے مارچ تک 14.6 ملین افراد کو فوری غذائی امداد درکار ہو گی۔

