گاؤں دیہاتوں کے اسکولوں کی طرح پاکستان کی سب سے بڑی یونیورسٹی کے طلبہ اسلام آباد میں بھی زمین پر ٹاٹ بچھا کر پڑھنے پر مجبور کردیے گئے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی کی زمین پر بارہ کہو بائی پاس کی تعمیر پر اساتذہ و طلبہ نے احتجاج کا انوکھا طریقہ اختیار کرلیا۔
بارہ کہو بائی پاس کی تعمیراتی سائٹ پر اساتذہ نے علامتی احتجاج کے طور پر کلاسز شروع کر دیں۔ وائٹ بورڈ لگا کر اور چٹائی بچھا کر یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کی کلاسسز منعقد ہونے لگیں۔
یونیورسٹی کے اساتذہ کے مطابق بائی پاس کی تعمیر سے قائد اعظم یونیورسٹی کی بڑی اراضی بھی اس کی زد میں ہے۔اس کی تعمیر سے یونیورسٹی کی زمین دو حصوں میں تقسیم ہو جایے گی۔ حکومت اس کی تعمیر کا کوئی متبادل طریقہ اپنائے تاکہ یونیورسٹی متاثر نہ ہو۔
قائداعظم یونیورسٹی کے اساتذہ زمین پر پڑھانے لگے
القمر
