اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں رواں سال کے دوران 600 سے زائد بچوں کو گھروں میں نظر بند رکھا ہے۔
فلسطین کے ادارہ برائے امورِ اسیران کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے 2015 میں گھروں میں نظر بندی کا نفاذ شروع کیا جس کا دائرہ بتدریج وسیع کیا جا رہا ہے۔ تل ابیب انتظامیہ نے مذکورہ اطلاق کے دائرہ کار میں رواں سال کے دوران بیت المقدس میں 600 سے زائد بچوں کو گھروں میں نظر بند رکھا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی قانون 14 سال سے کم عمر بچوں کو قید کی سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا لیکن اسرائیلی حکام نے اس کے جواب میں بیت المقدس کے 14 سال سے کم عمر بچوں کو سزا دینے کے لئے گھروں میں نظر بندی کا نفاذ شروع کر دیا ہے”۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک فلسطینی بچہ اس وقت تک نظر بند رکھا جا سکتا ہے کہ جب تک اس کے بارے میں جاری تفتیشی فائل بند نہیں ہو جاتی۔ بچوں کی نظر بندی چند دن سے ایک سال تک کے مختلف دورانیوں پر محیط ہو سکتی ہے۔ لیکن اسرائیلی عدالت سے فیصلہ جاری ہونے کے بعد کسی فلسطینی بچے کو دی جانے والی سزا میں یہ نظر بندی شامل نہیں کی جاتی۔
رپورٹ کے مطابق گھروں میں نظر بند کئے گئے بچوں پر نگاہ رکھنے کے لئے انہیں ایک برقی کلائی بند پہنایا جاتا ہے اور گھروں سے باہر نکلنے سے منع کر دیا جاتا ہے۔ نظر بندی بچوں کو نہ صرف خوف میں مبتلا کر دیتی ہے بلکہ اس کی وجہ سے بچے تعلیم سمیت متعدد انسانی حقوق سے محروم ہو جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ فلسطین جمیعتِ اسیران نے 19 نومبر کے بیان میں، اسرائیلی فورسز کے 2015 سے لے کر اب تک 18 سال سے کم عمر 9 ہزار 300 سے زائد فلسطینی بچوں کی حراست کا اعلان کیا تھا۔ جمیعت نے، 2022 میں اسرائیلی فورسز کی طرف سے 750 بچوں کو حراست میں لیے جانے کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی ہے۔
