کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان مولانا عبد الحق ہاشمی نے کہاکہ آدھی رات دھرنے شرکا پر حملہ کرکے تشددکا راستہ اپنا کر حکومت ،انتظامیہ اور سیکورٹی فورسزنے گواد رکے حالات خراب کیے ہیں، گوادر میں حکومتی ہٹ دھرمی ،تشدد،کرفیوجیسے حالات کی وجہ سے عوام گھروں میں محصورہوگئے ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ،حق دو تحریک اور بلوچستان کے عوام گوادر کے مظلوم عوام کیساتھ ہے۔ حکومت گوادرساحل پر ٹرالرمافیاسے مچھیروں کو نجات دلاکر شہر میں شراب خانے اورمنشیات کے اڈہ ختم،لاپتا افراد کو بازیاب کریں ۔بلوچ پشتون قبائل چیک پوسٹوں پر مزید تذلیل برداشت نہیں کریں گے ۔
مولانا عبدالحق ہاشمی کا کہنا تھا کہ گوادر میں کرفیو کا سماں ،نیٹ ورک ،بازار،آمدورفت سمیت ہر قسم کی سرگیاں بندنظام زندگی جام کر دی گئی ہے۔ حکومتی جبر، تشدد،طاقت کے منفی استعمال کی وجہ سے عوام میں سخت ردعمل پایاجاتاہے۔ را ت کی تاریکی میں دھرنے پر حملہ کرکے ،مظاہرین پرتشددگرفتاریاں ،مقدمات سے دھرنے رکھے گانہ عوام کا غصہ ٹھنڈاہوگا ،حکومت مذاکرات ،بات چیت کے ذریعے تسلیم شدہ مطالبات کو مان پر اس عمل کرکے دھرنا مظاہرین کاغصہ ٹھنڈاکریں ۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جب بھی حکمرانوں نے نہتے عوام کے خلاف طاقت کا استعمال کیا حالات خراب تر ،نفرت ،تعصب ،ظلم وجبرلاقانونیت میں اضافہ ہوا۔ حکومت اوران کے وزرا و ترجمان اور مشیران غلط بیانی سے گریز،قومی میڈیا دھرنے والوں کے موقف وبیانیہ کو کوریج دیں ۔انہوں نے اس تاثر اور پروپیگنڈا کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کیا کہ گوادر کے عوام کا احتجاج سی پیک کے خلاف یا گوادر کے عوام شرپسند ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوادر کے عوام جائز وتسلیم شدہ مطالبات پر عمل درآمد چاہتے ہیں گوادر کے عوام مذاکرات وترقی کے خلاف نہیں ویسے حکمرانوں سیکورٹی فورسزکو فوجی آپریشن تشددوگرفتاریوں کا شوق ہے جو کہ انہوں نے پورا کر دیا ۔اب تو مذاکرات شروع کرکے گوادر کے عوام کے عوامی جمہوری قانونی مطالبات تسلیم کریں تاکہ گوادرمیں حالات معمول پر آجائے ۔

