English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اقوام متحدہ 30 ملین بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات اٹھا رہی ہے

القمر

اقوام متحدہ   کے اداروں نے  خوراک اور غذائیت کے غیرمعمولی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے 30 ملین سے زیادہ کمزور بچوں کے تحفظ کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحریری بیان کے مطابق تنازعات، موسمیاتی تبدیلی، نئی قسم کے کورونا وائرس (کوویڈ 19) کے جاری اثرات اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات جیسے عوامل لاکھوں بچوں کی غذائی قلت کا سبب بن رہے ہیں، جب کہ بنیادی صحت، غذائیت اور دیگر اہم مسائل  بھی  سر اٹھا رہے ہیں ۔

دنیا بھر میں 15 سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں 30 ملین سے زیادہ بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، جب کہ ان میں سے 80 لاکھ بچے غذائی قلت کی وجہ سے  مہلک ترین سطح پر زندگی بسر  کرنے پر مجبور ہیں جس کی وجہ  سے  بچوں کی زندگی، طویل مدتی صحت اور نشوونما کے لیے بڑے مسائل  پیدا ہورہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO)، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR)، اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (UNICEF)، ورلڈ فوڈ پروگرام اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے  غذائیت کی کمی کی وجہ سے بچوں کو درپیش مسائل پر منصوبہ بندی  کرنے اور اس سلسلے میں  عالمی سطح پر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

اس منصوبے کا مقصد افغانستان، برکینا فاسو، چاڈ، کانگو، ایتھوپیا، ہیٹی، کینیا، مڈغاسکر، مالی، نائجر، نائیجیریا، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان اور یمن جیسے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں بچوں کی غذائی قلت کے مسائل کی نشاندہی کرنا ہے اور  بچوں کی روک تھام اور علاج کے لیے سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

اس منصوبہ بندی کے تحت کثیر شعبہ جاتی نقطہ نظر کو اپناتے ہوئے،  عالمی منصوبہ خوراک، صحت، پانی، صفائی ستھرائی اور سماجی تحفظ کے نظام کے ذریعے ماؤں اور بچوں کے لیے ترجیحی غذائیت کے لیے  حالات کو سازگار بنانا ہے۔

اقوام متحدہ  کے اداروں  نے اس بحران کو المیے میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے فیصلہ کن اور بروقت کارروائی  اور اقوام متحدہ کی مزید مربوط سرمایہ کاری کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے