کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے عمل کو روکا جائے اور الیکشن کمیشن میں افسر کے سامنے دوبارہ گنتی کی جائے، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا کیونکہ پیپلزپارٹی دوبارہ گنتی کے نام پر قبضہ کرکے دھاندلی کرنا چاہتی ہے۔
دفتر جماعت اسلامی کراچی ادارہ نورحق میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ فارم 11 اور 12 جو گنتی کی بنیاد ہیں، وہ فراہم نہیں کیے جارہے، فارم 11، 12 فراہم نہ کرنا اس بات کی وضاحت ہے کہ ان کو دھاندلی کرنی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 25 فیصد سے زائد رہا،4 مرتبہ بلدیاتی انتخابات کے اعلان ہونے کے باوجود انتخابات ملتوی کروائے گئے آخری لمحوں تک لوگوں کو کنفیوژن میں ڈالا گیا کہ انتخابات ہونے بھی ہیں یا نہیں یہ سب اس لیئے کیا گیا کہ لوگوں کی بڑی تعداد ووٹ نہ ڈالے، انتخابات والے دن نہ عملہ تھا نہ وقت پر پولنگ شروع ہوئی، جب پولنگ ختم ہوئی تو فارم 11 اور 12 نہیں دیے جا رہے تھے اس سے واضح ہے کہ پوسٹ پول دھاندلی کرائی گئی اور پریذائیڈنگ افسر کو اپنی مرضی کے نتائج کیلئے تقرر کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ کی بار بار ہدایات کے باوجود پریزائیڈنگ افسر اپنے ریٹرننگ افسران (آراوز) اور ڈپٹی ریٹرننگ افسران (ڈی آر اوز) کے کہنے پر فارم 11 اور 12 دینے پر تیار نہیں ہیں یہ سب انتخابات میں دھاندلی کے ہتھیار کے طور پر یہ کام کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے لوگوں کو کہا کہ آپ فارم لیے بغیر نہ آئیں، رات کے 2، 3 بج گئے، پھر بھی کچھ جگہیں ایسی تھیں جہاں انہوں نے فارم 11 اور 12 نہیں دیے ہم نے بڑی حد تک خاص طور پر جیتی ہوئی یوسیز پر فارم 11 اور 12 حاصل کر لیے۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن تمام مواد آر اوز سے لے کر اپنے پاس منگوائے، ہم اپنے نمبرز بڑھوانا نہیں چاہ رہے ہیں بس جس کا جو مینڈیٹ ہے تسلیم کیا جائے، یہ دوبارہ گنتی کے نام پر قبضہ کرکے دھاندلی کرنا چاہتے ہیں، دوبارہ گنتی کرا کر پیپلزپارٹی اپنے ہی نمبرز آگے بڑھانے کی کوشش کررہی ہے، پیپلزپارٹی کو ہمارے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرا مطالبہ ہے کہ دوبارہ گنتی کے عمل کو روکا جائے، دوبارہ گنتی کے لیے سارے تھیلے الیکشن کمیشن میں جائیں، الیکشن کمیشن کے افسر کے سامنے دوبارہ گنتی شروع ہو، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا، اپنی مرضی کے نتائج بنائے جارہے ہیں اس سارے عمل کو روک دیا جائے، ہم ناجائز مطالبہ نہیں کر رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جو نتیجہ بدلا جارہا ہے یہ غلط ہے، ہم جب آپ کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں، آپ بھی عوام کے مینڈیٹ کا احترام کریں، یہ ووٹ ہم نے نہیں عوام نے ڈالے ہیں، آپ نے خاص علاقوں میں حلقہ بندیاں کے ذریعے سے بڑھائیں ہمیں شدید تحفظات تھے لیکن اس کے باوجود الیکشن میں گئے کہ آپ انتخابات نہیں کروا رہے تھے اورآپ کا الیکشنز کرانے کا ارادہ بھی نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن جعل سازی پر نوٹس لے تمام عمل روک کر تمام چیزیں اپنے پاس بلا لی جائیں، آئین پاکستان نے الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جتنی پاور دی ہے اسے استعمال کریں، ہماری صرف ایک ہی موقف ہے جس کا جو مینڈیٹ ہے اس کے مطابق اعلان ہونا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ احتجاج کرنا ہمارا حق ہے ملیر ڈسٹرکٹ میں آر او کا جہاں دفتر ہے وہاں پر ہمارے کارکنوں کے اوپر گولیاں چلائی گئیں ہمارے ساتھی زخمی ہوئے ہیں اسی طرح کیماڑی میں علی زیدی پر حملہ کیا گیا میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز بھی یونیورسٹی روڈ پر ہنگامہ آرائی ہوئی ہے آر او صاحبہ نے ہمارے ساتھیوں کے خلاف زبردستی مقدمہ بھی درج کروا دیا وہ سیاسی کارکنوں کو اتنا زیادہ جانتی ہیں کہ ان کو ہمارے کارکنوں کے نام بھی پتا تھے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کس طرح ریٹرننگ افسران کو استعمال کرکے یہ سارے کام کررہی ہے۔

