کریملن ترجمان دیمیتری پیسکوف نے کہا ہے کہ یوکری اگر ہمارے مطالبات مان لیتا ہے تو یہ جنگ رک سکتی ہے ۔
ماسکو میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پیسکوف نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی کے بیان جس میں انہوں نے روسی ہم منصب کے زندہ ہونے پر شبہ ظاہر کیا تھا تنقید کی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ روس اور صدر پوتین کی موجودگی کا زیلنسکی پر نفسیاتی اثر کافی ہے ،میرے خیال میں کیئف انتظامیہ یہ جان لے کہ دونوں اپنی جگہ موجود ہیں، یوکرینی حکومت پر یہ آج یا کل واضح ہو جائے گا کہ روس کے خلاف ہٹ دھرمی زیادہ دیر نہیں چل سکے گی ،یوکرین جتنا جلد ہو سکے ہوش کے ناخن لے۔
پیسکوف نے کہا کہ یوکرین کوہمارے مطالبات پر غور کرنے کی ضرورت ہے،وہ جتنا جلد ان مطالبات کو مانے گا اتنا ہی جلد جنگ بندی ممکن ہو سکے گی جس کا براہ راست فائدہ یوکرینی عوام کو ہوگا،مغربی ممالک کی طرف سے یوکرین کو اسلحے کی فراہمی اگر جاری رہی تو یہ محاذ آرائی کو مزید ہوا دینے کا سبب بنے گا جو کہ خود یورپ کےلیے بھی خطرے کی گھنٹی بن سکتا ہے۔
روسی ترجمان نے بتایا کہ مذہبی تہوار اپی فانی کے سلسلے میں صدر پوتین نے یخ بستہ پانی میں روایتی غوطہ لگایا ہے مگر اُن کی کوئی تصویر یا ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود نہیں ہے۔
