اسرائیل اسمبلی نے دہشت گردی کے الزام میں زیرِ حراست اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے سے متعلق آئینی بِل منظور کر لیا ہے۔
"دہشتگردی کے ارتکاب کی وجہ سے ہرجانہ وصول کرنے والے دہشتگرد ایجنٹ کی شہریت یا پھر اقامتی پرمنٹ کی منسوخی” کے زیرِ عنوان اسمبلی میں پیش کئے گئے قانونی بِل کو اسمبلی کی دو نشستوں میں 10 منفی اور 94 مثبت ووٹوں کے ساتھ منظور کر لیا گیا ہے۔
اسرائیل اسمبلی نے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ "اسرائیل حکومت کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے کسی جرم میں سزا یافتہ کسی اسرائیلی شہری یا پھر اسرائیل میں دائمی اقامت پرمنٹ کے حامل فرد کے قید کی سزا پانے کے بدلے میں یا پھر کسی سرزد کردہ جُرم کے بدلے میں فلسطین انتظامیہ سے مادی امداد حاصل کرنے کی صورت میں ، صورتحال کے مطابق اس شخص کی شہریت یا پھر دائمی اقامت پرمنٹ منسوخ کر دیا جائے گا۔ مذکورہ شخص کو فلسطین انتظامیہ کے زیرِ کنٹرول علاقے یا پھر غزہ کی پٹّی میں بھیج دیا جائے گا”۔
منظور کئے گئے بِل کی رُو سے مذکورہ افراد کے براہ راست فلسطینی انتظامیہ یا پھر کسی غیر ملکی ادارے کی وساطت سے مادی تعاون حاصل کرنے کی صورت میں انہیں اسرائیل کی شہریت سے یا پھر اسرائیل کے دائمی اقامتی پرمنٹ سے بے دخل شمار کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں موجود فلسطینیوں کے پاس اسرائیل کی شہریت ہے اور مقبوضہ مشرقی القدس کے فلسطینی دائمی اقامتی اجازت نامہ رکھتے ہیں۔
