English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا آج بھی عدلیہ پر گہرا اثر ہے: صحافی اسد طور

القمر

صحافی اسد علی طور نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) ثاقب نثار کا آج بھی عدلیہ پر گہرا اثر ہے۔ خواہ وہ عملہ ہو یا بنچز ہوں،  ثاقب نثار  ان بااثر شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے عدلیہ میں مداخلت کا غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔

صحافی اسد علی طور نے  نے اپنے وی-لاگ میں کہا کہ حال ہی میں صحافی زاہد گشکوری سے گفتگو میں سابق چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) ثاقب نثار نے انکشاف کیا ہے کہ دو ہفتے پہلے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ان سے رابطہ کیا اور اپنے خلاف جاری متعدد مقدمات میں ان سے مدد طلب کی۔عمران خان نے انہیں کہا کہ ‘میں بہت مقدمات میں پھنسا ہوا ہوں۔ میری مدد کریں’۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ عمران خان نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے مدد کیوں مانگی۔ ایسی کونسی خاصیت ہے سابق چیف جسٹس میں جس کی بنا پر وہ عمران خان کی مدد کر سکتے ہیں۔ آج کے دن تک ان کی عدلیہ میں دخل اندازی اس کی وجہ ہے۔ خواہ وہ عملہ ہو یا بنچز ہوں،  ثاقب نثار  ان بااثر شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے عدلیہ میں مداخلت کا غیرمعمولی  کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپنے دور میں عدلیہ میں بہت زیادہ ‘انوسٹمنٹ’ کی ہے۔ چن چُن کے انہوں نے ججز کا انتخاب کیا اور انہیں ترقی دی۔ سینارٹی کے اصول کو نظرانداز کرتے ہوئے جونیئر ججز کو ترقی دی۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے عدالتی عملے میں من چاہی بھرتیاں کیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے رجسٹرا خواجہ داود، جو کہ چیف جسٹس کے رشتہ دار تھے، ان کے ذریٰعے بہت ساری بھرتیاں کیں۔ ان تمام چیزوں کی پیش نظر وہ آج بھی ‘موور اینڈ شیکر’ مانے جاتے ہیں۔

ان کے خلاف مسلم لیگ ن کی جانب سے کیس ہے جس میں ان کا موقف ہے کہ انہوں نے ہمارے خلاف بہت ہی جانبدار کارروائی اور فیصلہ کیا۔ 2017 میں جب ثاقب نثار چیف جسٹس تھے تو اس وقت وہ مسلم لیگ ن کے خلاف مہم چلا رہے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید اس وقت ڈی جی سی تھے۔ ایک واٹس ایپ گروپ تھا جس میں ثاقب نثار، فیض حمید اور سپریم کورٹ کے تین اور جج صاحبان شامل تھے۔ اس میں انتخابی عزاداریوں کا فیصلہ ہوتا تھا، اس میں سیاستدانوں کی مقدموں کی فیصلے ہوتے تھے کہ فلاں کو نااہل کرنا ہے، فلاں کو رکھنا ہے فلاں کو ٹارگٹ کرنا ہے، فلاں کے خلاف کیس ٹیک اپ کریں۔ اور ان پر عملدرآمد ہوتا تھا۔ ثاقب نثار خود فرعون وقت بن کر کہتے تھے کہ دو تین کو تو میں ایک نظر سے نااہل کر دیتا ہوں۔

یہ ساری گیم تھی جس کا جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ نے صحافی جاوید چوہدری کو دیئے گئے انٹرویو میں خلاصہ کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ ‘میں نے فیض حمید کو بھیجوا کر عمران خان کو صادق اور امیں کروایا تھا۔ عمران خان کا بنی گالہ والا فارم ہاوس غیرقانونی ثابت ہو گیا تھا تو میں نے  ثاقب نثار سے کہہ کر ریگولرائز کروایا تھا’۔اتنی ان کی حیثیت اور طاقت تھی۔

لاہور کے ایک چیف جسٹس یاور علی تھے جن کی بیٹی سپریم کورٹ جج عظمت سعید شیخ کی اہلیہ تھیں۔ خود یاور علی سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج  جسٹس خلیل الرحمان رندے کے بہنوئی تھے۔ ایک بار ن لیگ کے ورکرز نے احتجاج کیا جس میں انہوں نے ثاقب نثار کے خلاف غیرمہذب اور غیر اخلاقی نعرے لگائے۔  سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ یاور علی کو فون کیا اور ان کو کہا کہ اس کا نوٹس لیں اور دہشتگردی کی دفعہ لگا کر ان کو جیل میں بند کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کیسے ایسا کر سکتا ہوں۔ آپ اس کو سپریم کورٹ میں ٹیک اپ کر لیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور  چیف جسٹس یاور علی کے مابین انتہائی غیراخلاقی گالیوں کا تبادلہ ہوا۔ اس وقت عظمت سعید شیخ، جو کہ آج کل عمران خان کے ٹاوٹ بن کر پھرتے ہیں، انہوں نے دخل اندازی کر کے صلح کروائی۔ یہ سابق چیف جسٹس کی ن لیگ سے نفرت کا عالم تھا۔ یہ وہی ن لیگ تھی جنہوں نے خالد انور کے ذریعے ایک دور میں انہیں سیکریٹری قانون مقرر کیا تھا۔بعدازں جنہوں نے ان کا لاہور ہائیکورٹ کا جج بنایا۔ تو ن لیگ نے ایک کمپرومائزڈ بندے کا انتخاب کیا تو وہ کسی اور کے آگے بھی تو کمپرومائز ہو سکتا ہے ناں۔

موصوف ثاقب نثار گیم کیسے کرتے تھے۔ ن لیگ کی گردن اتارنے کی گیم چل پڑی تھی۔  سینیٹ کا الیکشن تھا جو 2018 کی اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے سے پہلے تھا۔ 2018 عام انتخابات میں ن لیگ کو نہ بھی جیتنے دیتے توکم از کم  ان کی سینیٹ میں اکثریت رہتی کیونکہ اس وقت وہ اکثریت میں تھے اور سینیٹ کی سب سے زیادہ نشستیں جیت سکتے تھے۔ جسٹس ثاقب نثار نے میں نواز شریف کو ن لیگ کی صدارت سے فارغ کروا دیا اور جو سینیٹرز  ن لیگ کی ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہےتھے انہیں آزاد قرار دے دیا۔

فیض حمید کو  ‘ہارس ٹریڈنگ’ کا قانونی راستہ مل گیا اور آزاد منتخب ہونے والوں کی اکثریت پاکستان تحریک انصاف میں چلی گئی۔ پنجاب سے ن لیگ کے 2 سینیٹرز کو نااہل کیا ۔ وہاں سے پی ٹی آئی نے اپنے سینیٹرز منتخب کروا لئے۔ یوں انہوں نے پی ٹی آئی کی اکثریت بڑھوا لی۔ اس طرح سے پولیٹیکل انجینئرنگ کی گئی۔

انتقامی کارروائی کے طور پر، جان بوجھ کر میاں نواز شریف، ان کے بچوں اور اہل خانہ کے کیسز اور ریفرنسز کا فیصلہ ایک ساتھ دیا۔ عام انتخابات 23 جولائی سے پہلے انہوں نے ایک فیصلہ سنوایا، میاں نواز شریف اور مریم نواز کو سزا سنوائی، ان کو وطن واپسی پر گرفتار کروا کے جیل میں ڈلوایا  تاکہ وہ انتخابات کے وقت باہر نہ ہوں۔ اسی کیس میں ضمانت کے لئے جب مریم نواز اور نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرنا تھا  تو  فیض حمید جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے گھر پہنچ گئے تھے تاکہ انہیں سمجھا سکیں کہ ہماری دو سال کی محنت ضائع نہ کر دینا۔ جب وہ نہ مانے تو  فیض حمید کے احکامات پر ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس لا کر ان کا قلع قمع کر دیا۔

وکیل ریاض حنیف راہی سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی تعیناتی کے خلاف  پٹیشن لے کر آگئے۔  وہ  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ سے ہٹانا چاہتے تھے اس لئے اس پٹیشن کے ذریعے وہ قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف شروع ہو گئے۔ ایک ہفتے بعد   ان کا کوئٹہ بار کونسل میں خطاب تھا تو کوئٹہ میں بلوجستان کے وکلا نے باور کروایا کہ ‘جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ہاتھ لگا کر کوئٹہ آئیں تو ہم آپ کی ٹانگیں توڑتے ہیں’۔ بقول عمران خان کے، اس پر ثاقب نثار گھبرا گئے۔ انہوں نے کوئٹہ جانے سے پہلے پہلے اس پٹیشن کو مسترد کرنا تھا۔ انہوں نے بڑے دل سے پیٹیشن کو سماعت کے لئے اٹھایا تھا تاہم دباو آیا تو اس کو مسترد کرنے کے لئے جوتے چھوڑ کر بھاگے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض حنیف راہی کو پتا چلا تو وہ منظر سے غائب ہو گئے. رحیم یار خان میں اپنے آبائی گھر میں جاکر چھپ گئے۔ ان کے راوالپنڈی والے گھر میں رات گئے چھاپہ مارا گیا۔ حنیف راہی کے بیٹے نے بتایا کہ وہ گھر ہی نہیں ہیں۔ رحیم یار خان کے سیشن جج کو، ایک میجسٹریٹ کو اور  پولیس کو بھیج کر ریاض حنیف کو رات کے ایک بجے اٹھوایا ۔ پولیس وین انہیں سپریم کورٹ لے کر آئی۔ اگلی صبح کورٹ میں پیش کیا۔ ریاض حنیف نے کہا کہ میری طبیعت خراب ہے دلائل نہیں دے سکتا۔ عدالت نے کہا کہ ہم نے درخواست پڑھ لی ہے۔ درخواست مسترد کر دی گئی۔

اتنا بدترین اور جانبدار انسان تھا۔ فیصل رضا عابدی نے ان کے خلاف ایک ٹاک شو میں بات کی۔ اس پر توہین عدالت کا ازخود نوٹس لے لیا۔ فیصل رضا عابدی کو سپریم کورٹ میں پیش ہونا تھا انہوں نے راتوں رات پولیس پر دباو ڈلوا کر خفیہ طور پر ایف آئی آر کٹوائی۔ جب فیصل رضا عابدی سماعت کے بعد عدالت سے باہر نکلے تو پولیس نے کہا کہ فلاں فلاں کیس میں آپ کو گرفتار کر رہے ہیں اور گرفتار کر کے لے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ثاقب نثار  نے ہائیکورٹ کے ججز کو کالیں کر کر کے فیصل رضا عابدی کی ضمانت نہیں ہونے دی۔

معزز جسٹس منیب اختر سندھ ہائیکورٹ میں چوتھے نمبر پر جونیئر جج تھے لیکن چونکہ وہ ثاقب نثار   کے مینٹور خالد انور کے داماد تھے تو ثاقب نثار ان کو ترقی دے کر سپریم کورٹ لے آئے۔ حالانکہ ان سے کئی درجے قابل اور سینیئر جج جسٹس عقیل عباسی  کو ترقی نہیں دی۔ اس وقت ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو یہ توجیہہ پیش کہ کہ میں نے سندھ  ہائیکورٹ کے تمام ججز بشمول جسٹس عقیل عباسی، عرفان سعادت اور احمد علی شیخ ے پوچھ لیا ہے۔ سب اس فیصلے پر متفق ہیں۔ اس پر سنڈح ہائیکورٹ کے جج صاحبان نے تردید کی اور بتایا کہ انہوں نے ہمیں صرف مطلع کیا تھا کہ جسٹس منیب اختر کو ایلیویٹ کر کے سپریم کورٹ لے جارہا ہوں۔ ہم احترام میں خاموش رہے۔

اب جسٹس اعجازالاحسن کو دیکھ لیں۔ جب ثاقب نثار  پی ٹی آئی کے امیدواروں کی انتخابی مہم کے لئے مختلف حلقوں میں دورے کررہے تھے تو یہ موصوف ثاقب نثار   کے ساتھ ہوتے تھے۔ ان کے بہت قریبی رہے ہیں۔ معزز چیف جسٹس عمر عطا بندیال بھی ثاقب نثار   کے بہت قریبی رہے ہیں۔ عمران خان کو صادق اور امین قرار دینے والے بنچ کا بھی وہ حصہ تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے