اسپین کے معروف روزنامے الپائس نے کہا ہے کہ یونان کی پولیس 2017 سے 2022 کے دوران ترکیہ واپس دھکیلے گئے غیر قانونی نقل مکانوں سے 20 لاکھ یورو سے زائد مالیت کی کرنسی اور قیمتی اشیاء چوری کر چُکی ہے۔
اخبار نے یونان کی نیوز سائٹ سولومون کے تعاون سے کی گئی تحقیق میں غیر منّظم نقل مکانوں، مختلف سِول سوسائٹیوں، اداروں، ماہرین اور دریائے مارتیسا کے رہائشیوں کے ساتھ ملاقاتوں کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ 2017 سے 2022 کے عرصے میں یونانی پولیس براستہ مارتیسا یونان آنے والے 20 ہزار سے زائد غیر منّظم نقل مکانوں کو ترکیہ واپس بھیج چُکی ہے۔
اخبار نے کہا ہے کہ ان نقل مکانوں کو ترکیہ واپس بھیجنے کے دوران ریکارڈ کئے گئے 374 کیسوں میں سے 232 چوری کے کیس ہیں۔
تحقیقی نتائج واضح شکل میں ثابت کرتے ہیں کہ یونانی پولیس نقل مکانوں کا مال چُراتی رہی ہے۔ یورپی یونین کی مشرقی سرحد یعنی ‘یونان ‘ میں نقل مکانوں کی پناہ کی درخواستوں کا یا پھر حراست میں لئے جانے کا ریکارڈ نہیں رکھا گیا۔ ان نقل مکانوں کو پولیس تھانوں، فوجی بیرکوں یا پھر خالی ڈپووں میں لے جا کر زدوکوب کا نشانہ بنایا گیا ہے”۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ نقل مکانوں کو ترکیہ واپس بھیجنے سے قبل ان کی کرنسی اور قیمتی اشیاء ہتھیا لی جاتی تھیں۔ جمع شدہ ڈیٹا کے مطابق حالیہ 6 سالوں میں یونانی سکیورٹی فورسز اندازاً 20 سے 28 لاکھ یورو مالیت کی کرنسی، سیل فون، انگوٹھیوں، چوڑیوں اور جھمکوں جیسی قیمتی اشیاء چُرا چُکی ہے۔ لیکن ریکارڈ سے باہر معلومات کو بھی نگاہ میں رکھا جائے تو یہ مقدار موجودہ سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے”۔
خبر میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی نقل مکانوں کو لُوٹنا یونانی سکیورٹی فورسز کا ایک منّظم ہتھکنڈہ بن چُکا ہے۔ سال 2017 میں یونان سے واپس ترکیہ بھیجے گئے نقل مکانوں کی کرنسی چوری کرنے کے واقعات کی شرح 11 فیصد تھی جو 2022 میں بڑھ کر 92 فیصد ہو گئی ہے۔
