وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے صدر عارف علوی کے وزیراعظم شہباز شریف کے نام خط پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عارف علوی اپنی اوقات اور آئینی دائرے میں رہیں۔عمران خان کی کٹھ پتلی نہ بنیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا کہ صدر علوی اپنی اوقات اور آئینی دائرے میں رہیں۔ عمران خان کے حکم پر کٹھ پتلی نہ بنیں۔ عارف علوی، عمران خان سے دہشت گردی کرنے کا جواب لیں۔
رانا ثنااللہ نے کہا کہ کلمے پڑھتے ہوئے سیاسی مخالفین پر 15 کلو ہیروئن ڈال دی تھی۔ اس وقت انسانی حقوق کہاں تھے۔ کیا اپوزیشن لیڈر کو سزائے موت کی چکی میں انسانی حقوق کے مطابق ڈالا تھا۔ سیاسی مخالفین کی بہنوں، بیٹیوں سزائے موت کی چکیوں میں انسانی حقوق کے مطابق ڈالا تھا۔
آئین اور قانون شکن آئینی عہدے پر مسلط ہے
کلمے پڑھتے ہوئے سیاسی مخالفین پہ 15 کلو ہیروئن ڈال دی تھی، اُس وقت انسانی حقوق کہاں تھے
کیا اپوزیشن لیڈر کو سزائے موت کی چکی میں انسانی حقوق کے مطابق ڈالا تھا
— Rana Sanaullah Khan (@PresPMLNPunjab) March 24, 2023
انہوں نے کہا کہ صحافیوں کی ہڈیاں پسلیاں توڑیں۔ اس وقت انسانی حقوق کہاں تھے۔ پولیس کے سر کھولنے، پیٹرول بم، گولیاں، غلیلیں انسانی حقوق کے مطابق چلائیں؟
وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ صدر عمران خان کو خط لکھیں کہ 19 کروڑ پاؤنڈ پاکستان کو واپس کریں۔ عمران کو خط لکھیں کہ ٹیئرین خان کو قبول کریں وہ سب حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ عمران خان کو خط لکھیں کہ توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ کا عدالت میں جواب دیں۔
وفاقی وزیر نے صدر مملکت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آئین اور قانون شکن آئینی عہدے پر مسلط ہے۔
عمران خان کو خط لکھیں کہ 190 ملین پاؤنڈ پاکستان کو واپس کرے
عمران کو خط لکھیں کہ ٹرین خان کو قبول کریں وہ سب حقوق کی خلاف ورزی ہے
عمران خان کو خط لکھیں ہے توشہ خانہ اور فارن فنڈنگ کا عدالت میں جواب دیں
— Rana Sanaullah Khan (@PresPMLNPunjab) March 24, 2023
واضح رہے کہ گزشتہ روز صدر عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط میں لکھا جس میں انتخابات ملتوی کیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔
ایوان صدر کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق خط میں صدر نے کہا کہ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد 90 روز میں انتخابات کروانا ضروری ہیں۔سپریم کورٹ نے دونوں صوبوں میں انتخابات کروانے کا حکم دیا تھا۔لیکن بظاہر لگتا ہے کہ وفاقی اور نگران حکومتوں نے اداروں کے سربراہان کو الیکشن کروانے سے معذوری ظاہر کرنے کو کہا ہے۔
صدر عارف علوی نےکہا کہ آئین و قانون کے مطابق انتخابات میں معاونت فراہم کرنا اداروں کا فرض ہے۔
صدر نے کہا کہ توہین عدالت سمیت مزید پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے وزیراعظم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے متعلقہ حکام کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مقررہ وقت میں عام انتخابات کرانے کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کی ہدایت کریں۔
انہوں نے لکھا کہ میڈیا نے بنیادی اور انسانی حقوق کی واضح خلاف ورزیوں کے واقعات کو اجاگر کیا ہے۔ایسے واقعات کے تدارک اور اصلاح کیلئے انہیں وزیراعظم کے نوٹس میں لانے کی ضرورت تھی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام متعلقہ انتظامی حکام کو انسانی حقوق کی پامالی سے باز رہنے کی ہدایت کی جائے۔
