English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

فنڈز کی کمی کی وجہ سے کئی محکموں میں تقرریوں پر پابندی عائد ہے، شیری رحمن

underage marriages

اسلام آباد:وفاقی وزیرماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ فنڈز کی کمی کی وجہ سے کئی محکموں میں تقرریوں پر پابندی عائد ہے، بیرون ملک سے بڑی بلیوں سمیت دیگرایسے جانور جن کی پرورش پاکستان میں نہیں ہوسکتی کی درآمد پر پابندی عائد کردی ،ملک میں 44نیشنل پارکس کی نشاندہی کی گئی ہے، ان کے پی سی ون کیلئے صوبوں نے بھی فنڈز دینے ہیں ان کا انتظار کیا جارہا ہے ۔

جمعہ کو ایوان بالا میں وقفہ سوالات کے دوران سیمی ایزدی کے سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا گیا کہ ملک بھرمیں 44محفوظ علاقے قرار دیئے گئے ہیں جن میں گلگت بلتستان میں 23، بلوچستان ایک اورسندھ میں 2 شامل ہیں۔اس کے پی سی ون صوبوں سے آنے ہیں ان کا انتظارکیا جارہا ہے۔ ہماری تیاری مکمل ہے ، پارکس میں توسیع بھی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فنڈزکی کمی کی وجہ سے یہاں تقرریاں بھی نہیں کی جارہیں۔ یہ ہمارے قدرتی وسائل ہیں، گرین کلائیمیٹ فنڈ سے پاکستان کو کم پیسے ملتے ہیں اس کیلئے ہم نے مستقل کیس لڑا ہے، ان نیشنل پارکس کی دیکھ بھال صوبوں نے کرنی ہے۔

انہوں نے کہاکہ زیادہ تر گرانٹس قرض کی مد میں دی جارہی ہیں ہم نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ یہ گرانٹ ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کمیونٹی ہنٹنگ سب سے زیادہ بلوچستان میں ہورہی ہے، ہم نے باہر سے بڑی بلیوں سمیت دیگرایسے جانور جن کی پرورش پاکستان میں نہیں ہوسکتی کی درآمد پر پابندی عائد کی ہے۔ اسلام آباد سے ایک بنگال ٹائیگر برآمد ہواجو غیرقانونی طور پر یہاں لایا گیا ،یہاں موافق آب ہوا نہ ہونے کی وجہ سے ہلکان ہے، اس کوافریقہ یا کسی مناسب ملک میں بھجوائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ ہم نے یہ اصول بنایا ہے کہ جو پرندہ باہر سے کسی جہاز میں کوئی لائے گا وہ وہی واپس لے جاسکے گا،اس کیلئے چپ دکھانا لازمی ہوگی۔وزارت ماحولیاتی تبدیلی کا بجٹ سیلاب کے بعد زندگی بچانے والے منصوبوں کیلئے مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں پلاسٹک کے استعمال پر ہمارے مطالبے پر سینیٹ نے پابندی لگائی ، اس پر چیئرمین سینیٹ کے شکرگزار ہیں، ملک میں پلاسٹک کا فضلہ جمع کریں تو 2 کے ٹو پہاڑ بن جائیں گے۔

انہوں نے کہاکہ الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے ہمارے پاس کوئی مینوفیکچرنگ کمپنی نہیں، ہمیں الیکٹرک وہیکل پالیسی کا نچلی سطح سے آغاز کرنا ہوگا۔شیری رحمن نے کہا کہ ارکان سے گزارش ہے اپنی سفارشات کمیٹی میں پیش کریں، یہاں سوالات کریں، سابق حکومت کی الیکٹرانک وہیکل پالیسی بہت ہی بنیادی اور صرف پیپرز تک محدود تھی،سابق حکومت نے الیکٹرک وہیکلز کیلئے اسٹیشنز ہی نہیں بنائے تھے،ہم نے تمام وفاقی سرکاری عمارات کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، ابھی تک 3ہزار تک گلیشیر ز پگھل کر جھیلیں بن گئے ہیں، ہمارے منصوبے کا مقصد مقامی آبادیوں کو محفوظ رکھنا ہے، ہمارے علاقے میں 7 ہزار سے زیادہ گلیشیر زہیں جو تیزی سے پگھل ر ہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے