اسلام آباد:وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان کی زیر صدارت گندم، چینی، کھاد و دیگر اشیائے ضروریہ کی اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے دوسرا اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر تجارت سید نوید قمر، وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی طارق بشیر چیمہ، وزیر صنعت مخدوم مرتضی محمود ، معاون خصوصی برائے ریوینیو طارق محمود پاشا،سیکرٹری داخلہ علی مرتضی، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو آصف احمد اور وفاقی و صوبائی اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی ملک سے باہر اسمگلنگ ایک ہنگامی صورتحال کا باعث بن رہی ہے۔سب سے پہلے تو جو لوگ اس غیر قانونی کام سے منسلک ہیں اور اس میں سہولت کار ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانا ہوگی۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ اسمگلنگ میں ملوث افسران اور عملہ کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے گی۔اداروں کے جوائنٹ آپریشن اور انٹیلیجنس شئرنگ پر کام کرنا ہوگا، جوائنٹ چیک پوسٹس اور جوائنٹ پٹرولنگ پر عملدرآمد کو جلد سے جلد یقینی بنایا جائے۔
انھوں نے مزید ہدایت کی کہ بارڈر کنٹرول کے نظام کو بھی مزید فعال بنانا ہو گا اور اس کے ساتھ بین الاصوبائی نقل وحمل پر بھی نظر رکھی جائے،اشیائے ضروریہ پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لگائے جانے کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ ضبط ہونے والی اشیا کے ذریعے اس میں شامل عناصر کی سرکوبی کی جا سکے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ سرحدی اضلاع میں ضرورت سے زیادہ اشیائے ضروریہ کی سپلائی کو روکنے کیلئے اقدامات عمل میں لائے جائیں،سرحدی اضلاع میں ضرورت سے زیادہ ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی عمل میں لانے کی ہدایت بھی کردی گئی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ بارڈر کے ساتھ ساتھ، سمگلنگ کو روکنے کیلئے اس کے آغاز کی جگہ سے لے کر اس کو راستے میں روکنے کیلئے اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

