کریملن ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تنازع کے حل پر اقدامات قابل ذکر ہیں لیکن اس معاملے میں روس کے ساتھ طے شدہ سہ رکنی معاہدےکی پابندی بھی لازمی ہوگی ۔
پیسکوف نے جنوبی قفقاز کے تانزع سے متعلق آذری اور آرمینی حکام کے امریکہ سے رابطے کے حوالے سے کہا کہ آرمینیا اور آذرباِئجان کے مابین تنازع کے حل میں روس کے بجائے کسی تیسری طاقت کی مداخلت غیر قانونی ہوگی ۔
پیسکوف نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین موجود تنازعات کے خاتمے کےلیے اختیار کردہ اقدامات قابل ذکر ہیں لیکن اس معاملے مین رس کے ساتھ طے شدہ معاہدے کو مد نظر رکھنا لازمی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا آذری اور آرمینی حکام سے رابطے پر پیسکوف نے کہا کہ تنازع کے حل میں ہر قسم کے تعاون کا خیر مقدم کیا جائے گا البتہ اس مفاہمت کو سبو تاژ کرنے کے درپے بعض کوششیں ہو رہی ہیں جو کہ کامیاب ثابت نہیں ہونگی ۔
