English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ملک میں گردشی قرضوں کا حجم ڈھائی ہزار ارب سے متجاوز

القمر

اسلام آباد: ملک میں گردشی قرضوں کا حجم اڑھائی ہزار ارب سے تجاوز کر گیا  جب کہ گزشتہ سال 230ارب روپے کی بجلی کنڈے کے ذریعے چوری، لائن لاسز سے 113 ارب کے نقصان کا انکشاف  ہوا۔ علاوہ ازیں حکومت نے بھاری نقصانات والے فیڈرز کی نجکاری  اور  بجلی چوری سے متعلق مؤثر قانون سازی کا فیصلہ کر لیا۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہوا، جس میں وزراتوانائی نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ سال دسمبر تک ملک میں گردشی قرضوں کا حجم بڑھ کر 25کھرب36ارب تک پہنچ گیا جب کہ گزشہ سال بجلی چوری اور لائن لاسز نے گردشی قرضے میں 343 ارب کا اضافہ ہوا۔

دستاویز کے مطابق گزشتہ سال 230ارب کی بجلی کنڈے کے ذریعے چوری ، لائن لاسز سے113ارب کا نقصان رپورٹ کیا گیا۔ تحریری جواب میں کہا کہ حکومت نے بڑھتے گردشی قرضے پر بڑا فیصلہ کیا ہے۔ بھاری نقصانات (ہائی لاسز ) والے فیڈرز کی نجکاری کی جائے گی جب کہ حکومت نے بجلی چوری سے متعلق قانون سازی کا منصوبہ بنالیا۔

رہنما مسلم لیگ (ن)نے واضح کیا کہ بجلی چوری قابل سزا جرم قرار دی جائے گی۔گردشی قرضہ کثیر الجہتی مسئلہ ہے۔دوسری جانب پارلیمانی سیکریٹری نے تصدیق کی کہ ہائی لاسز فیڈرز کی نجکاری تجویز کو فائنلائز نہیں کیا گیا، فیڈرز کی نجکاری سے متعلق تجاویز کی منظوری پر نجکاری کے عمل کا باضابطہ آغاز کیا جائے گا۔

وزارت توانائی نے صوبوں میں گیس منصوبوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 3 برس میں 75ارب 90کروڑ لاگت کے 553 گیس اسکیموں پر کام شروع کیا ، پنجاب میں43ارب 22 کروڑ لاگت کے 228گیس اسکیمیں،خیبرپختونخوا میں 29 ارب 49کروڑ کی 150 جب کہ سندھ میں3 ارب18کروڑ کی175 گیس اسکیموں پر کام شروع کیا گیا جب کہ مذکورہ عرصے کے دوران بلوچستان میں کوئی گیس ڈویلپمنٹ اسکیم شروع نہیں کی گئی ۔

افغانستان کی سرحد کے راستے جعلی ادویات کی اسمگلنگ سے متعلق توجہ دلاوٴ نوٹس قادر خان مندوخیل نے پیش کیا۔ توجہ دلاو نوٹس پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ یہ انتہائی اہم توجہ دلاوٴ نوٹس ہیں، قبائلی سرحد بڑی غیر متواتر اور بہت لمبی ہے، کسٹم انٹیلی جنس وہاں پر موجود ہوتی ہے۔پاکستان کسٹمز نے اس سال ملک بھر میں ادویات کے 26 کیسز پر کاروائی کی، اس میں وہ کیس بھی ہے جس میں کوئلے کے ٹرکوں میں ادویات رکھ کر اسمگل کرنے کی کوشش کی گئی۔

وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ یہ ایک لمبی فہرست ہے کیونکہ اسمگلنگ کرنے والے کوشش کرتے رہتے ہیں، سول آرمڈ فورسز اور کسٹمز والے اسمگلنگ کو روکنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔قادر خان مندوخیل نے کہا کہ کچھ کمپنیز والے ہر 3 ماہ بعد پیکنگ تبدیل کرتے ہیں کیونکہ جعل ساز کمپنیاں موجود ہیں، رشوت لے کر جعلی کمپنیوں کو کام کرنے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔یہ جعلسازی کسی صورت کم نہیں ہوگی۔یہ اگر کہتے رہیں گے کہ سرحد بہت بڑی ہے تو پھر تو دہشت گرد بھی آتے رہیں گے۔کیا آپ نے وہ ویڈیو نہیں دیکھی جو کسٹم والے پیسے لے کر لوگوں کو چھوڑتے ہیں۔

وفاقی وزیر مرتضی جاویدعباسی نے کہا کہ جعل ساز کمپنیاں صوبائی ریگولیٹری اتھارٹی کے زیرانتظام ہوتی ہیں، یہ دنیا کی واحد سرحد ہے جس پر دشوار گزار راستوں کے علاوہ دہشت گرد بھی ہیں۔کئی گاوٴں ایسے ہیں جو آدھی سرحد کے اس پار ہیں اور آدھے سرحد کے اس پار ہیں۔ ادویات کے اسمگل ہونے کی رپورٹس اتنی زیادہ نہیں ہیں، جعل ساز کمپنیوں کے خلاف بھی ہماری صوبائی ریگولیٹری اتھارٹی نے بہت کارروائیاں کی ہیں۔اگر کسی جعل ساز کمپنی کا ان کو معلوم ہے تو پوائنٹ آوٴٹ کریں۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف نے کہا کہ جعلی ادویات کا بننا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔منسٹر صاحب جعلی ادویات سے متعلق تفصیلات حاصل کریں اور ایوان کو آگاہ کریں۔اجلاس میں بین الاقوامی پارلیمانی کنونشن کے انعقاد کے لیے قومی اسمبلی ہال میں تقریب کے انعقاد کی اجازت سے متعلق تحریک ایوان نے منظور کرلی۔

آئین کی پچاسویں سالگرہ کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جائیگا جس کے تحت 10 اور 11 مئی کو بین الاقوامی پارلیمانی کنونشن منعقد ہوگا۔بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس منگل کی صبح 11 رہ بجے تک ملتوی کر دیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے