کینیا میں روزہ تا مرگ کے باعث ہلاک شدہ افرادکی تعداد 227 ہو چکی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اپنے مریدوں کو روزہ تا مرگ پر اکسانے والی مذہبی جماعت کے خلاف تحقیقات کے نتیجے میں حکام کا مزید نعشیں بھی ملی ہیں۔
کییی علاقے کی کمشنر روڈا اونیانچا نے بتایا ہے کہ جماعت کے لیڈر پال میک کنزی کے خلاف دہشتگردی ایکٹ کے ذریعے جاری تفتیش کے نتیجے میں مزید نعشیں بازیاب کی ہیں۔
اون یانچا نے بتایا کہ اب تک چھبیس افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 611 افراد تا حال مفرورہیں۔
ملکی ذرائع ابلاغ میں جسمانی اعضا کی تجارت سے متعلق خبروں کی بنا پر کی گئی تفتیش کے تحت بعض نعشیں اعضا کے بغیر نکالی گئی تھیں۔
جماعت کے لیڈر میک کینزی نے پولیس کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ نعشوں کی تعداد ایک ہزار تک ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ گڈ نیوز انٹرنیشنل چرچ کے فادر پال میک کنزی نے گرجے میں موجود افراد کو یقین دلانے کی کوشش کی تھی کہ اگر وہ روزہ تا مرگ رکھِیں گے تو ان کی ملاقات حضرت عیسی سے ہو سکے گی ۔
