اسٹاک ہوم : سوئیڈن کی عدلیہ اور پولیس نے اسلام مخالف انتہا پسندوں کو اجازت دے دی ہے کہ وہ عیدالاضحی کے پہلے روز قرآن پاک کے نسخے کو جلا کر شہید کر سکتے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اشتعال انگیزانہ فعل دارالحکومت اسٹاک ہوم کی ایک مسجد کے باہر انجام دیا جاتا ہے۔
سوئیڈن میں اسلام مخالف انتہا پسندوں نے ترکی اور اسلام کے ساتھ مخاصمت کے سبب پہلے بھی دو مرتبہ قرآن پاک شہید کرنے کی کوشش کی تھی تاہم پولیس نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اس کے بعد یہ معاملہ عدالت پہنچ گیا۔
سوئیڈش میڈیا کے مطابق پولیس نے قرآن پاک کو جلانے کی اجازت نہ دینے کا جواز سیکورٹی خدشات کو قرار دیا تھا تاہم عدالت نے قرار دیا کہ سیکورٹی کا کوئی خدشہ نہیں۔عدالت نے کہاکہ قرآن پاک کو جلانے سے جڑے سیکورٹی خدشات اس قسم کے نہیں ہیں کہ موجودہ قوانین کے تحت اس قسم کے اجتماع کی اجازت نہ دی جائے۔
سوئیڈن میں اس سے قبل بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ دائیں بازو کے سیاستدان راسموس پالوڈن کئی اجتماعات میں قرآن پاک کو شہید کرچکے ہیں یا کرنے کی کوشش کر چکے ہیں۔تاہم بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا کہناہے کہ اس مرتبہ قرآن پاک شہید کرنے کی کوشش کے پیچھے پالوڈن نہیں ہے۔
قرآن پاک کو شہید کرنے کا منصوبہ ایک عراقی پناہ گزین نے ترتیب دیا ہے اور اس میں صرف دو افراد شریک ہوں گے۔انہی دو افراد کو اجازت نامہ جاری کیا گیا ہے۔ یہ کوئی بڑا اجتماع نہیں ہوگا تاہم پولیس ان کی سیکورٹی کے لیے موجود ہوگی۔مذکورہ عراقی کا نام سلوان مومیکہ بتایا گیا ہے جو 37برس کا ہے۔
اس شخص نے پہلے بھی ایک مرتبہ یہی اجازت مانگی تھی جو مسترد کردی گئی۔سوئیڈن میں فروری میں قرآن پاک کو شہید کرنے کی ایک کوشش کو انتظامیہ نے رکوا دیا تھا تاہم اس سے کچھ عرصہ قبل دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے ترکی کے سفارتخانے کے سامنے قرآن پاک کو شہید کیا تھا۔
یہ انتہا پسند ترکی کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جو ان کے خیال میں نیٹو میں سوئیڈن کی شمولیت کا مخالف تھا۔اپریل 2022 میں سوئیڈن میں قرآن پاک کو شہید کیے جانے کے بعد شدید ہنگامے ہوئے تھے،اس واقعے پر ترکی نے سوئیڈن کے وزیر دفاع کا دورہ انقرہ منسوخ کردیا تھا اور واضح کیا تھا کہ ترکی سوئیڈن کی نیٹو میں شمولیت کی حمایت نہیں کرے گا۔
