کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے شدید حبس اور گرمی کے موسم میں شہر بھر میں پانی کی شدید قلت و بحران اور کے الیکٹرک کی جانب سے اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں،بجلی و پانی کے بحران نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ خواتین، بچے و بزرگ شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار ہیں، امتحانات میں مصروف طلبہ و طالبات بھی سخت پریشان ہیں، بجلی و پانی کے ستائے عوام سڑکوں پر نکلنے اور احتجاج پر مجبور ہیں، واٹر بورڈ اور کے الیکٹرک اپنی نا اہلی و ناقص کارکردگی کو دور کرنے اور اپنے نظام کو بہتر کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت اور کراچی کے سلیکٹڈ میئر بتائیں کہ اہل کراچی کے پانی و بجلی کے سنگین اور دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ واٹر بورڈ کی چیئر مین شپ لینے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ پیپلز پارٹی کی وفاق میں بھی حکومت ہے اور 15سال سے مسلسل سندھ میں بھی ہے، اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے پانی اور بجلی کے مسئلے کو فی الفور حل کرے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کے الیکٹرک کا نظام اور معاملات بھی درست نہیں کیے جا رہے، کے الیکٹرک کی نج کاری اور اس نجی کمپنی کو ہر سال اربوں روپے کی سبسیڈی دینے کے باوجود عوام کو سستی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکی۔ کے الیکٹرک کے لائسنس کی مدت ختم ہونے والی ہے لیکن ابھی تک دیگر کمپنیوں کو مدعو نہیں کیا گیا اور ایک بار پھر اسی کمپنی کو اہل کراچی پر مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
