یوکرین کے صدر ولادی میر زلنسکی نے کہا ہے کہ میں نے ترکیہ اور اقوام متحدہ کو بحیرہ اسود اناج راہداری سمجھوتے سے روس کو خارج کرنے کی تجویز پر مبنی مراسلہ ارسال کیا ہے۔
زلنسکی نے ٹیلی گرام پیج سے، 22 جولائی 2022 کو استنبول میں ترکیہ، یوکرین، روس اور اقوام متحدہ کے درمیان طے پانے والے اور اناج کی ترسیل پر مبنی سمجھوتے سے متعلق، بیانات جاری کئے ہیں۔
بیانات میں انہوں نے اس سمجھوتے کے دائرہ کار میں 45 ممالک کو تقریباً 33 ملین ٹن زرعی اجناس برآمد کرنے کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ "مذکورہ مقدار کا 60 فیصد حصہ جزائر، تیونس، لیبیا، مصر، کینیا، ایتھوپیا، صومالیہ اور سوڈان سمیت افریقی اور ایشیائی ممالک کو بھیجا گیا ہے”۔
زلنسکی نے کہا ہے کہ "یوکرین کی غذائی مصنوعات تقریباً 400 ممالک کی بنیادی ضرورت ہیں۔ بحیرہ اسود اناج راہداری سمجھوتہ روس کے بغیر جاری رہ سکتا ہے اور جاری رہنا چاہیے۔ سمجھوتہ قابلِ استعمال ہے اور اس معاملے میں واحد چیز اس کا محتاط اطلاق ہے”۔
زلنسکی نے کہا ہے کہ” میں نے ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کو ایک مراسلہ ارسال کیا ہے۔ میں نے تجویز پیش کی ہے کہ بحیرہ اسود اناج راہداری سمجھوتے کو سہ فریقی فارمیٹ کے ہم پلّہ تصوّر پر چلایا جائے۔ یوکرین، اقوام متحدہ اور ترکیہ مل کر غذائی کوریڈور کو بحال رکھ سکتے اور جہازوں کی مانیٹرنگ کر سکتے ہیں”۔
صدر ولادی میر زلنسکی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس کے ساتھ ٹیلی فونک ملاقات کا اور اناج سمجھوتے پر بات چیت کا بھی ذکر کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "روس عالمی غذائی منڈی کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں ہے اور یوکرین کی غذائی مصنوعات پر انحصار کرنے والے مختلف ممالک کے 40 کروڑ انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ "اناج سمجھوتے کا دوام ضروری ہے۔ ہم، غذائی سلامتی اور بحیرہ اسود میں غذائی راستوں کی یقین دہانی کے لئے ،گٹرس اور ذمہ دار حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے پر متفق ہیں”۔
