نیویارک: اقوام متحدہ نے کہا کہ سوڈان میں20.3 ملین سے زائد افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں، جبکہ 40 لاکھ افراد نے نقل مکانی کی۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے بیان میں کہا کہ 20.3 ملین سے زیادہ افراد جو ملک کی 42 فیصد سے زیادہ آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔مئی 2022 میں کیے گئے آخری تجزیے کے نتائج کے مقابلے میں شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار افراد کی تعداد تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کی تنظیم نے سوڈان کی صورتحال کو انتہائی نازک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 6.3 ملین افراد اس وقت بھوک کی وجہ سے ہنگامی مدد کے مستحق ہیں۔سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں خرطوم، جنوبی اور مغربی کورڈوفن، وسطی، مشرقی، جنوبی اور مغربی دارفور شامل ہیں۔ان علاقوں میں نصف سے زیادہ آبادی کو شدید بھوک کا سامنا ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم ) کی رپورٹ کے مطابق بے گھر ہونے والوں میں سب سے زیادہ تناسب دریائے نیل (15 فیصد)، شمالی (11 فیصد)، شمالی دارفر (9 فیصد) اور سفید نیل (9 فیصد) ہیں۔آئی او ایم کی فیلڈ ٹیموں نے اطلاع دی ہے کہ اندرونی طور پر بے گھر ہونے والے71 فیصد افراد کا تعلق ریاست خرطوم سے ہے۔یاد رہے فوج اور ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان 15 اپریل کو لڑائی شروع ہوئی ، جس میں اب تک 3 ہزار 900 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

