لاہور: نائب امیر جماعت سلامی پاکستان راشد نسیم نے مرکزی تربیت منصورہ میں شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت اور حالات نے بتا دیا کہ سیکولر اور لادین حکمران پاکستان کے لیے زحمت اور ملک کی بربادی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔
راشد نسیم نے کہا کہ گذشتہ 50سال گواہ ہیں کہ جمہوری یا فوجی حکومتیں ہوں سب کے چہرے ،طریقے اور بودوباش ایک ہی طرح کے ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔ ملک کے کلچر کو بدلنے کی ضرورت ہے اس کے لیے ہمیں اپنے پڑوسی اسلامی ملک افغانستان سے سبق لینا ہو گا۔
انہوں نے کہاکہ افغانستان کے تجربے کو پاکستان میں لانے کی ضرورت ہے۔ سادگی، سچ، انصاف کو اپنانا ہو گا اور وی آئی پی اور پروٹوکول کلچر کا خاتمہ کرنا ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جو جتنا بڑا ہے اتنے ہی فائدے سمیٹ رہا ہے،کمزور طبقہ سراسر گھاٹے میں، دو فیصد اشرافیہ وسائل پر قابض ہے۔
رہنما جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ عدلیہ، ملٹری، سویلین بیوروکریسی کے لیے اربوں کی مراعات ہیں، غریب دو وقت کی روٹی کے لیے ترس رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کو اب اسلامی کلچر کی ضرورت ہے، خلافت راشدہ کا احیا اور سیرت نبویۖ کا اتباع کرنا ہو گا، اس کے علاوہ ملک کی ترقی کا کوئی راستہ نہیں۔

