شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے صدر ایرسن تاتار نے ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل متین گیوراک کو شرف ملاقات بخشا۔
شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے ایوان صدر کے بیان کے مطابق لیفکوشا میں منعقدہ میٹنگ میں تاتار نے پیلے شاہرا کے بارے میں اقوام متحدہ کے ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب پائلٹ جنگیز توپیل کو قتل کیا گیا تھا اور دیہاتوں میں ترکوں کا قتل عام کیا گیا تھا تو اقوام متحدہ تب کہاں تھی؟
تاتار نے کہا کہ ہم پیلے میں شہریوں کی مشکلات کو رفع دفع کرنے اور انسانی بنیادوں پر سڑکیں بنانا چاہتے ہیں، یونانیوں نے پیلے میں سڑکیں، عمارتیں اور یونیورسٹیاں تعمیر کیں، لیکن جب ترکوں نے سڑک بنانا چاہی تو رد عمل کا مظاہرا کرنا دوہرا معیار تھا۔
صدر تاتار کا کہنا ہے کہ مخالف فریق کا مقصد پیلے میں ترک نفوس میں کمی لاتے ہوئے مخلوط گاوں کو مکمل طور پر یونانی گاؤں بنانا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی بحیرہ روم میں ایک ترک ریاست ہونے والے شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کے پیٹرول، قدرتی گیس اور دیگر سیکیورٹ معاملات نے اضافہ کیا ہے، اگر قبرص میں کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو ہم بھی اس کا حصہ ہوں گے۔
تاتار نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ترکیہ اور ترک دنیا ترک قبرص کے شانہ بشانہ ہے اور شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کی اہمیت میں ترک ریاستوں کی تنظیم کا مبصر رکن بننے کے بعد اضافہ ہوا ہے۔
استقبالیہ میں اپنے خطاب میں چیف آف جنرل اسٹاف گیوراک نے اس بات پر زور دیا کہ "قبرص ترکیہ کے لیے ایک قومی مقصد ہے” اور اس بات کا اظہار کیا کہ وہ ہمیشہ قبرصی ترکوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اور منصفانہ مقصد کی حمایت کرتے رہیں گے۔
ترک چیف نے کہا کہ پیلے میں خالصتاً انسانی ضروریات کے لیے شروع کیے گئے سڑک کی تعمیر کے کاموں کے خلاف اقوام متحدہ کی امن فوج کا غیر جانبداری کے اصول کے خلاف موقف ناقابل قبول ہے۔
گیوراک نے علاوہ ازیں اس بات پر زور دیا کہ وہ لیماسول میں کھوپرولو حاجی ابراہیم آغا مسجد پر ہونے والے گھناؤنے حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
ترک مسلح افواج کے سربراہ کا دورہ شمالی قبرصی ترک جمہوریہ
القمر
