اسرائیل کے وزیر خزانہ بزالل سموٹرچ نے کہا ہے کہ امریکہ خود "منافق ” ہے وہ اسرائیل کو اخلاق اور انسانی حقوق کا درس نہیں دے سکتا۔
انتہائی دائیں بازو کے حامی وزیر خزانہ بزالل سموٹرچ نے اسرائیل ریڈیو پر، فلسطینیوں کی حق تلفیوں کے موضوع پر، واشنگٹن انتظامیہ کی اسرائیل حکومت پر تنقیدوں کا جائزہ لیا ہے۔
سموٹرچ نے امریکہ انتظامیہ کی طرف سے اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ‘اتامار بن گویر’ کے فلسطینیوں کے بارے میں نسلیت پرستانہ بیان کی مذّمت پر سخت الفاظ میں ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ میں اس طرف نہیں جانا چاہتا کہ امریکہ نے افغانستان اور عراق میں کیا کچھ کیا لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ وہ ہمیں اخلاق اور انسانی حقوق کا درس نہیں دے سکتے۔ یہ ایسا دوغلا پن ہے جسے دیکھا ان دیکھا نہیں کیا جا سکتا”۔
امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل۔سعودی عرب بحالی تعلقات مذاکرات کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے سموٹرچ نے کہا ہے کہ ہم، اسرائیل۔سعودی عرب سمجھوتے کے ایک حصّے کی شکل میں بھی فلسطینیوں کے لئے کسی ڈھیل کو قبول نہیں کریں گے”۔
واضح رہے کہ دعوے کے مطابق امریکہ انتظامیہ نے اسرائیلی حکام کو آگاہ کیا تھا کہ مستقبل میں سعودی عرب کے ساتھ بحالی تعلقات کے لئے اسرائیل کو فلسطینیوں کے معاملے میں قابل ذِکر چھُوٹیں دینی ہوں گی۔
سموٹرچ، انتہائی دائیں بازو کی دینی صیہونیت پارٹی کے لیڈر اور وزیر اعظم بنیامین نیتان یاہو کی زیرِ قیادت کولیشن حکومت کے اتحادیوں میں سے ایک ہیں ۔ وہ، مقبوضہ دریائے اردن کے مغربی کنارے کے لئے پالیسیوں کے تعین میں بھی اہم کردار کے حامل ہیں۔
اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ‘اتامار بن گویر’ کو بھی فلسطینیوں کے خلاف نسلیت پرستانہ بیانات اور اشتعالی اقدامات کے حوالے سے پہچانا جاتا ہے۔ 24 اگست کو اسرائیل کے چینل 12 پر جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ اسرائیلیوں کی آزادی فلسطینیوں کی آزادی سے زیادہ اہم ہے۔
سوشل میڈیا صحافیوں اور سول سوسائٹیوں نے بن گویر کے بیان پر ردعمل کا اظہار کیا اور امریکہ اور یورپی یونین نے بیان کی مذّمت کے لئے بیانات جاری کئے تھے۔
