English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

صدر بائیڈن کی مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کےانتقامی حملوں کی مذمت

القمر

صدر جو بائیڈن نے بدھ کے روز اسرائیل پر حماس کے سات اکتوبر کے حملوں کے بعد سے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آباد کاروں کےانتقامی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دہائیوں سے جاری اسرائیل-فلسطین تنازعے کے خاتمے کے لیے دو ریاستی حل پر کام کرنے کے اپنے عزم کا پھرسے اعادہ کر رہے ہیں۔

بائیڈن نے کہا کہ "انتہا پسند آباد کاروں کے حملے حماس کے حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں پہلے سے جلتی ہوئی آگ پر "تیل چھڑکنے ” کے مترادف ہیں۔ "اسے روکنا ہوگا۔ ان کا احتساب ہونا چاہیے۔ اسے ابھی روکنا ہوگا،”

بائیڈن نے یہ بیان آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز کے ساتھ ایک نیوز کانفرنس کے آغاز میں دیا، جو واشنگٹن کے سرکاری دورے پر ہیں ۔

امریکی صدر اور دورے پر آئے ہوئے آسٹریلیا کے وزیر اعظم کی نیوز کانفرنس۔

حماس کے حملے کے بعد سے فلسطینیوں کے خلاف آباد کاروں کے تشدد میں شدت آئی ہے اور فلسطینی حکام کے مطابق، آباد کاروں کے ہاتھوں فلسطینیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ آباد کاروں نے کاروں کو نذر آتش کیا اور بدوؤں کی کئی چھوٹی کمیونٹیز پر حملہ کیا، جس سے وہ دوسرے علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہوگئے۔

فائل فوٹو

"ویسٹ بینک پروٹیکشن کنسورشیم” کے نام سے فعال غیر سرکاری تنظیموں اور یورپی یونین سمیت عطیہ دہندگان کے اتحاد کا کہنا ہے کہ سات اکتوبر کے بعد سے مغربی کنارے میں آباد کاروں کے تشدد کی وجہ سے سینکڑوں فلسطینی اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ غزہ سے حماس کے حملے کے بعدجب اسرائیلی فوج حماس کےعسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے مغربی کنارے میں ہلاکت خیز تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس تشدد سے دو ہفتے پرانی جنگ میں ایک اور محاذ کھل جانے کا خطرہ ہے۔

اس سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ فلسطینی اتھارٹی پر دباؤ پیدا ہوتا ہے، جو مغربی کنارے کے کچھ حصوں کا انتظام کرتی ہے۔

یہ تنظیم فلسطینیوں میں بہت زیادہ غیر مقبول ہے، کیونکہ وہ سلامتی کے معاملات میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کرتی ہے۔

بائیڈن نے ایک بار پھر حماس کے حملے کی بربریت کی مذمت کی جس میں 1,400 اسرائیلی ہلاک ہوئےتھے۔

امریکی صدر نے کہا کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حماس کا مقصد سعودی عرب سمیت اپنے کچھ عرب پڑوسیوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے کی امریکی قیادت میں کی جانے والی کوششوں کو ختم کرنے کی خواہش ہے۔

صدر نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اور حماس کے تنازع کے خاتمے کے بعد اسرائیل، فلسطینیوں اور ان کے شراکت داروں کو دو ریاستی حل کے لیے کام کرنا چاہیے۔







No media source currently available

بائیڈن نے کہا، "اسرائیلی اور فلسطینی یکساں طور پر تحفظ، وقار اور امن کے ساتھ شانہ بشانہ رہنے کے حقدار ہیں۔،”

بائیڈن نے مزید کہا، "جب یہ بحران ختم ہو جائے گا، تو آگے کیا ہو گا اس کا ایک وژن ہونا چاہیے۔ اور ہمارے خیال میں، یہ دو ریاستی حل ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے