English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارتی ریاست اترپردیش مسلم دشمنی میں اول نمبر پر

القمر

نئی دہلی: بھارت بھر میں بی جے پی دور کے دوران  مسلم دشمنی پر مبنی بے شمار واقعات سامنے آئے ہیں، تاہم اس دوران ریاست اتر پردیش مسلمانوں سے نفرت پر مبنی واقعات میں نمبر ون پر ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ  8 برس کے دوران یعنی 2015ء سے اب تک مسلمانوں کے خلاف نفرت  اور تعصب پر مبنی جرائم میں بھارتی ریاست اترپردیش 418 واقعات کے ساتھ سر فہرست ہے۔ یہ ریاست مسلمانوں کے خلاف لو جہاد، حلال جہاد، گھر واپسی، بیٹی بچاؤ بہو لاؤ، حجاب بندی اور گؤ کھشا جیسی ہندو انتہا پسندوں کی مہموں کا گڑھ رہی ہے۔

اترپردیش میں بی جے پی حکومت کے زیر سایہ 2022میں اقلیتوں کے خلاف 13ہزار جرائم کے ساتھ سر فہرست رہی ۔ 2016کی بھارتی وزارت داخلہ کی رپورٹ کے مطابق اتر پردیش میں قیدیوں میں سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی ہے۔ 18ہزار سے زائد مسلمان زیر التوا مقدمات میں اتر پردیش کی جیلوں میں قید ہیں جب کہ پولیس مقابلوں میں مرنے والوں میں بھی مسلمان سب سے زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مودی سرکار نے 2016سے اتر پردیش کے 21ہزار مدرسہ اساتذہ کی تنخواہیں بھی بند کر رکھی ہیں۔ 2015میں محمد اخلاق کو گائے ذبح کرنے کے شبہے پر ہندو ہجوم نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا لیکن پولیس نے اس کے بھائی ہی  کے خلاف مقدمہ کر دیا اور 2017میں انہی 15قاتلوں کو یوگی سرکار نے سرکاری نوکریوں سے نواز دیا۔

5 مارچ 2019 کو میرٹھ میں زمین پر قبضہ کرنے کے لیے بی جے پی رہنما نے مسلمانوں کی 200سے زائد جھونپڑیوں کو جلا ڈالا۔ رمضان میں عید کی نماز ادا کرنے پر1700مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

رواں برس اپریل میں انتہا پسند ہندو رہنما یاتی نر سنگھ آنند نے پیروکاروں کو خانہ کعبہ پر حملہ کرنے کی ترغیب بھی دی۔ اپریل 2023میں مسلمان سیاستدان عتیق احمد کو بھائی سمیت انتہا پسند ہندووں نے پولیس کی حراست کے دوران لائیو کیمرے کے سامنے گولیوں سے بھون ڈالا۔ رواں ماہ بھارتی مظفر نگر کے نیہا پبلک سکول کی ہندو ٹیچر نے 7سالہ محمد التمش کو سبق یاد نہ کرنے پر باقی بچوں سے تھپڑ لگوائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے