اسلام آباد: نگراں وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ ٹیکس آمدن کا تین چوتھائی حصہ قرض کا سود ادا کرنے پر لگ جاتا ہے۔حکومت قرض کا بوجھ کم کرنے کے اقدامات کررہی ہے۔
پائیدار ترقی سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام پر مکمل عمل کیا جائے گا۔ رواں مالی سال کے دوران شرح نمو ڈھائی فی صد رہے گی۔حکومت نے مشکلات کے باوجود بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ بروقت اسٹاف لیول کا معاہدہ کیا ہے۔
ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ کافی بڑھ چکا ہے اور ٹیکس آمدن کا تین چوتھائی حصہ قرض کا سود ادا کرنے پر لگ جاتا ہے۔ حکومتی کمپنیوں کے نقصانات 500 ارب روپے سے بڑھ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین سے 2.4 ارب ڈالر کا قرض مؤخر کروایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے معاشی مسائل خود کفالت سے حل کیے جائیں گے۔ برآمدات میں اضافہ اور منافع بخش حکومتی کمپنیوں کو اسٹاک مارکیٹ پر لسٹ کروایا جائے گا اور ان کی انتظامیہ کاری نجی شعبے کے حوالے کی جائے گی۔
