پاکستان اس وقت کئی طرح کے ہوش ربا بحرانوں سے دوچار ہے۔ ان میں سے سب سے بڑا چیلنج معاشی ابتری ہے جس کی وجہ سے پچھلے دو عشروں، خصوصاً حالیہ تین چار برسوں میں پاکستانی باشندوں کے ترک وطن میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے جو بیرونی ممالک ، خصوصاً یورپ میں روزگار کے مواقع تلاش کر رہے ہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی ریسرچ کے مطابق 2022ء میں یورپ جانے والوں کی تعداد میں 57فیصد اضافہ ہوا۔ جبکہ مشرق وسطیٰ سمیت غیر یورپی ممالک کا رخ کرنےوالوں کی تعداد میں اضافہ 48فیصد رہا۔
2018ء سے 2023ء کے دوران مجموعی طور پر ایک لاکھ 30ہزار افراد کوویزے جاری کئے گئےجن میں سے 9 ہزار ویزے ان لوگوں کو دئیے گئے جو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ ترک وطن کرنا چاہتے تھے۔ ترک وطن کی بڑی وجہ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی، روزگار کے محدود مواقع سے پیدا ہونے والا معاشی عدم استحکام اور روز افزوں مہنگائی ہے۔ روزگار اور تعلیم کیلئے برطانیہ جانے والوں کے ویزوں کی تعداد میں بہت اضافہ دیکھا گیا ہے۔
تعلیم کے ویزے حاصل کرنے والوںمیں سے بھی اکثر کا ارادہ وہاں مستقل سکونت اختیار کرنا ہوتا ہے۔ امریکی سفارتخانے کے مطابق امریکی ویزوں کی ڈیمانڈ بھی بڑ ھ گئی ہے۔ 2020ء میں بیرون ملک پاکستانی تارکین وطن کی تعداد 63لاکھ تھی۔ اس کے بعد بھی ان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رزق کی تلاش اور تعلیم کیلئے کہیں بھی جانا غلط نہیں مگرہنر مند افراد کا ترک وطن ، جن کی خدمات کی خود اپنے ملک میں اشد ضرورت ہے لمحہ فکریہ ہے ۔ نئی منتخب حکومت کو ان کیلئے ملک کے اندر کام کے مواقع بڑھانے چاہئیں تاکہ وہ اپنے وطن کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لے سکیں۔
شفقنا اردو
نوٹ: شفقنا کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں