گوجرانوالہ: غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کرنے پرجماعت اسلامی پاکستان کے سابق سنیٹر مشتاق احمد کے بیوی بچوں کو گرفتار کرلیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کرنے پر پولیس نے سابق سینیٹر کی اہلیہ حمیرا طیبہ اور بچوں کو گرفتار کرلیا،حمیرا طیبہ بچوں سمیت فلسطین کے حق میں مظاہرہ کررہی تھیں کہ پولیس کی بھاری نفری نے لوگوں کو منتشر کرکے حمیرا طیبہ کو بچوں سمیت گرفتار کرلیا ۔
جماعت اسلامی خواتین نے سابق سینیٹر مشتاق کی فیملی کی گرفتاری پر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچوں کو گرفتار کرنا بے شرمی کی انتہا ہے، ایک ناجائز دجالی ریاست اسرائیل کے خلاف احتجاج کب سے جرم بن چکا ہے ؟ سابق سینیٹر مشتاق احمد کے بیوی بچوں کے ساتھ جو ظلم پولیس نے کیا، اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی جاچکی ہے ۔
انہوں نے مزید کہاکہ غلام ذھنیت کے حکمرانوں کو متنبہ کرتے ہوئے سابق سینیٹر مشتاق احمد کی فیملی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں، دجال کا جو حامی ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے، جس قائد اعظم کو یہودی ڈاکٹر سے علاج کرانا پسند نہ تھا اس کے ملک میں فلسطین کےلیے پر امن احتجاج پر لوگوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔
خیال رہے کہ محترمہ حمیرا طیبہ صاحبہ نے نومبر2023سے غزہ کے نام سے تحریک کا آغاز کیاتھا، ریاست کی طرف سے کئی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں لیکن وہ مجاہد مرد کی مجاہد بیوی اپنی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے دن رات کام کرتی رہیں، سب سے زیادہ مایوس کن منظر ریاستی اداروں کی طرف سے دیکھنے میں آیا، لیکن اس کے باوجود انھوں نے پوری دلجمعی کے ساتھ دن رات ایک کر کے اس تحریک کو آگے بڑھایا۔

