English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اگر آپ ایورسٹ کی چوٹی سر کرنا چاہتے ہیں تو اب لائسنس ملنے کا امکان کم ہے

نیپال سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ایورسٹ اور دیگر بلند چوٹیوں کو سر کرنے کے اجازت ناموں کی تعداد محدود کر دے تاکہ بلند ترین چوٹیوں کے ماحول کو آلودگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جمعے کے روز ایک وکیل نے سپریم کورٹ کے اس حکم کی تصدیق کی ہے۔

یہ حکم ایک ایسے وقت میں جاری ہوا ہے جب موسم بہار شروع ہونے کے ساتھ کوہ پیمائی کا سیزن شروع ہونے والا ہے اور بڑے پیمانے پر بیرونی ملکوں سے کوہ پیماؤں کی آمد متوقع ہے۔

ہمالیائی پہاڑوں کی دس بلندترین چوٹیوں میں 8 نیپال میں ہیں اور موسم بہار میں، جب درجہ حرارت نستباً اونچا اور ہوائیں پرسکون ہوتی ہیں، سینکڑوں مہم جو کوہ پیما نیپال کا رخ کرتے ہیں۔

کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ کی طرف جا رہی ہے۔ 2 جون 2021

کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ کی طرف جا رہی ہے۔ 2 جون 2021

سپریم کورٹ میں یہ اپیل ایک وکیل دیپک بکرم مشرا نے دائر کی تھی۔ اس نے اے ایف پی کو بتایا کہ عدالت نے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ چوٹیاں سر کرنے کے اجازت نامے محدود کر دے تاکہ ملک کے پہاڑوں اور اس کے ماحول کو خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔

مشیر نے بتایا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے اپنے حکم میں کوہ پیماؤں کی تعداد گھٹانے کے ساتھ ساتھ چوٹیوں پر کوہ پیماؤں کے چھوڑے ہوئے فضلے اور کوڑا کرکٹ صاف کرنے اور ماحول کے تحفظ کے لیے بھی ٹھوس اقدامات کرنے کے لیے کہا ہے۔

نیپال کی حکومت ایورسٹ کے لیے صرف ان مہم جوؤں کو اجازت نامے جاری کرتی ہے جو 11 ہزار ڈالر فیس کے طور پر ادا کرتے ہیں۔ ایورسٹ سطح سمندر سے 29035 فٹ بلندی پر ہے۔

اس تصویر میں ایک کارکن ایورسٹ کے راستے میں بکھرے ہوئے اس کوڑا کرکٹ کو جمع کر رہا ہے جو کوہ پیما اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔

اس تصویر میں ایک کارکن ایورسٹ کے راستے میں بکھرے ہوئے اس کوڑا کرکٹ کو جمع کر رہا ہے جو کوہ پیما اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے۔

نیپال نے پچھلے سال ایورسٹ کے لیے 478 اجازت نامے جاری کیے تھے جو ایک ریکارڈ ہے۔

سن 2019 میں ایورسٹ سر کرنے کے لیے کوہ پیماؤں کا اس قدر ہجوم ہو گیا تھا کہ انہیں چوٹی پر چڑھنے کے لیے کئی گھنٹوں تک اپنی باری کا انتظار کرنا پڑا جس کی وجہ سے ان کے لیے آگسیجن کی کمی اور شدید سردی میں مسلسل رہنے کی وجہ سے صحت کے مسائل پیدا ہو گئے تھے۔

اس دوران وہاں 11 ہلاکتیں ہوئیں جن میں سے چار کا تعلق ہجوم کے باعث اپنی باری کے لیے طویل انتظار سے تھا۔

مشرا کا کہنا تھا کہ کوہ پیماؤں کی کثیر تعداد سے پہاڑوں پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے اور ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کا بوجھ گھٹایا جائے۔

عدالت کا تفصیلی فیصلہ آنا ابھی باقی ہے جس سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ کتنے اجازت ناموں کی حد مقرر کی گئی ہے۔

ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی دنیا کی سب سے بلند چوٹی پر پاکستانی پرچم کے ساتھ۔

ایورسٹ کی چوٹی سر کرنے والی پاکستان کی پہلی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی دنیا کی سب سے بلند چوٹی پر پاکستانی پرچم کے ساتھ۔

عدالت کے حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایورسٹ اور دوسری چوٹیوں پر جانے کے لیے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر پابندی ہو گی اور اس کا استعمال صرف ایمرجینسی کے لیے ہو سکے گا۔

حالیہ برسوں میں کوہ پیمائی کی اکثر ٹیموں کو بیس کیمپ اور ان جگہوں تک جانے کے لیےجہاں پہنچنے کے راستے خطرناک اور دشوار ہیں، ہیلی کاپٹر استعمال ہوتے رہے ہیں۔

نیپال کی کوہ پیمائی کی ایسوسی ایشن کے صدر نیما نورو شیرپا نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس حکم کا کوہ پیمائی کی صنعت پر کیا اثر پڑے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہماری توجہ اس چیز پر مرکوز ہونی چاہیے کہ ہم پہاڑوں کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں۔

نیپال اس سال اب تک اپنے پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے کے لیے 945 اجازت نامے جاری کر چکا ہے جن میں سے 403 اجازت نامے صرف ایورسٹ کے لیے ہیں۔

(اس رپورٹ کے لیے کچھ معلومات اے ایف پی سے لی گئیں ہیں)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے