لاہور: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ تنخواہ دار طبقہ بھی ٹیکس نیٹ ورک میں شامل ہے۔
لاہور میں پری بجٹ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقہ بھی ٹیکس نیٹ میں شامل ہے، ہمیں ٹیکس کے دبا کو تقسیم کرنا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اپریل میں ہم نے ٹیکس رجسٹریشن کے لیے مہم کا آغاز کیا تھا، لوگ سمجھتے ہیں کہ ٹیکس نیٹ میں آنے سے انہیں ہراساں کیا جائے گا، ہم سب سہولت دیں گے مگر اس ٹیکس نیٹ میں لانے والی مہم سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کا کام ہے پالیسی بنانا ہے، کام نجی شعبے نے کرنا ہے، مشکل سے نکلنے کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو لیڈ کرنا ہوگا، حکومت صرف پالیسی دے سکتی ہے، حکومت کا کام گورننس کو بہتر بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم 3 ریفارمز پر کام کر رہے ہیں پہلا ٹیکس ٹو جی ڈی پی، دوسرا سرکاری اداروں کی نجکاری اور تیسرا توانائی، ہمیں اسٹرکچرل ریفارمز کی ضرورت ہے، ٹیکس ٹو جی ڈی پی میں ہمیں قانون پر عمل در آمد کروانا ہے، ہمیں ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا ہے، تاجروں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں، ملک میں معاشی استحکام کیلئے اداروں کی نجکاری ضروری ہے۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر مستحکم اور افراط زر میں کمی آرہی ہے، پچھلے 8 سے 10 ماہ میں میکرو اکنامک اشاریے صحیح سمت میں بڑھ رہے ہیں، مالیاتی سطح پر نظم و ضبط آیا ہے ہمارا کرنٹ اکانٹ خسارے 2 سے 3 مہینے سرپلس تھا لیکن اس مالی سال کا مجموعی خسارہ ایک ارب ڈالرسے کم رہے گا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ ٹوٹے ہیں، حکومتی پالیسیوں کے باعث غیرملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہورہا ہے، ہم معیشت کو دستاویزی بنائیں گے، ہمیں کرنٹ اکانٹ اور بجٹ خسارے کو ختم کرنا ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ شہباز شریف کے عزم کی وجہ سے عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدہ کامیابی سے مکمل ہوا، اس میں عبوری حکومت کو بھی پورا کریڈٹ جاتا ہے، آئی ایم ایف کی ٹیم پاکستان پہنچ چکی، کل مذاکرات کا آغاز ہوگا اور اس تقریب کے بعد میں اسلام آباد جاؤں گا تاکہ اس کی میٹنگ کے حوالے سے اجلاس میں شریک کرسکوں۔

