غزہ: صہیونی فورسز نے غزہ کے جنوبی شہر رفح کے باہر بے گھر فلسطینیوں کے پناہ گزیں کیمپوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جس میں کم از کم 25فلسطینی شہید اور 50 زخمی ہوگئے۔
بے گھر فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے مہلک حملے جاری ہیں جس میں دیگر مقامات کے ساتھ کیمپوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ فلسطینی علاقوں خصوصاً غزہ اور رفح پر مسلسل بمباری اور بڑی تعداد میں فلسطینیوں کی شہادتوں کے بعد عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، یہاں تک کہ امریکا کی جانب سے بھی اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے، تاہم صہیونی حکومت عالمی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے فلسطینیوں کی نسل کشی کے لیے دہشت گردی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
رفح کے ریڈکراس فیلڈ اسپتال میں اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کے لواحقین، جو تازہ صہیونی جارحیت کے عینی شاہدین بھی ہیں، نے میڈیا کو بتایا کہ قابض اسرائیلی فورسز نے خیموں سے باہر آنے والوں کو اپنے ہتھیاروں کا نشانہ بنایا ہے۔
انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے مطابق اسرائیلی حملے کے بعد اسپتال میں فلسطینیوں کی لاشیں بکھری پڑی ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملے میں 25 فلسطینی شہید اور 50 زخمی ہوئے ہیں۔
آئی سی آر سی نے کہا کہ سیکڑوں لوگ آس پاس کے خیموں میں رہتے ہیں، جن میں اسپتال کا عملہ بھی شامل ہے اور اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں سے ان کی بھی جان کو خطرات لاحق ہیں۔
رفح میں امدادی تنظیم کے ترجمان احمد رضوان کے مطابق عینی شاہدین نے جمعہ کے روز ساحلی علاقے میں دو مقامات پر پناہ گزیں کیمپوں پر گولہ باری کے بارے میں بتایا۔
دوسری جانب غزہ میں شدید گرمی پہلے ہی اسرائیلی دہشت گردی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے ایک نئے بحران کا سبب بن رہی ہے۔
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی محصور پٹی میں شدید گرمی فلسطینیوں کے لیے صحت کے مسائل کو بڑھا سکتی ہے۔ اسی طرح عالمی ادارہ خوراک نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں صاف پانی، خوراک اور طبی سامان کی قلت سے صحت کا بحران پیدا ہوچکا ہے۔
غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے لیے ڈبلیو ایچ او کے نمائندے رچرڈ پیپرکورن نے کہا کہ غزہ میں پانی اور صفائی کے ناقص حالات کی وجہ سے زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آلودہ پانی اور ناقص صفائی ہیضہ، ڈائریا، پیچش اور ہیپاٹائٹس اے جیسی بیماریوں کو جنم دے رہا ہے۔

