اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا اسلام آباد کے ٹریبونل کی تبدیلی کا آرڈر معطل کر دیا۔ الیکشن ٹریبونل کی تبدیلی کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی، سماعت میں مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی انجم عقیل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور فریقین کے وکلا عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے انجم عقیل سے سوال کیا کہ آپ نے جو بیان حلفی الیکشن کمیشن میں جمع کرایا اس میں جو لکھا ہے وہ سچ ہے؟ انجم عقیل خان عدالتی استفسار پر درخواست میں استعمال الفاظ کی وضاحت نہ کر سکے۔چیف جسٹس عامر فاروق نے پوچھا آپ کو سمجھانا ہے کہ nepotism (اقربا پروری) کیا ہوتا ہے، مجھے اس کامطلب سمجھائیں؟ اس پر انجم عقیل نے کہا کہ یہ لیگل الفاظ ہیں، میں عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لیتا ہوں، جس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ Nepotism لیگل لفظ بالکل بھی نہیں ہے، کیا آپ نے پڑھے بغیر بیان حلفی پر دستخط کر دیے؟ اس پر انجم عقیل نے جواب دیا کہ جی میں نے بیان حلفی پر بغیر پڑھے دستخط کیے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا آپ نے درخواست دی ہے کہ جج صاحب جانبدار تھے‘ تو بتائیں وہ کیسے جانبدار تھے؟ آپ کی وہ سفارش نہیں مان رہے تھے کیا اس لیے آپ انہیں تبدیل کرانا چاہتے تھے؟ اس پر انجم عقیل نے جواب دیا میں نے سفارش نہیں کی مگر میں معذرت خواہ ہوں‘ میں نے کیس ٹرانسفر کرانے کے لیے درخواست دی تھی۔ عدالت نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں غلط آرڈر کیا تھا تو آپ عدالت عظمیٰ چلے جاتے مگر آپ نے یہ زبان جان بوجھ کر استعمال کی ہے، اس پر ن لیگی امیدوار انجم عقیل نے کہا کہ ان الفاظ پر میں معافی مانگتا ہوں۔دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے سوال کیا آپ اس آرڈیننس کا کیسے دفاع کریں گے؟ کون سا آسمان گرنے لگا تھاکہ قائم مقام صدر سے راتوں رات آرڈیننس جاری کروا دیا؟ پارلیمنٹ کو ختم کر دیتے ہیں اورآرڈیننس کے ذریعے حکومت چلوا لیتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ آپ لوگوں نے آرڈیننس کی فیکٹری لگا رکھی ہے، ایک واہ فیکٹری ہے اور دوسری آرڈیننس فیکٹری ہے۔ عدالت نے انجم عقیل خان کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے ہر سماعت پر حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کیس کی مزید سماعت 9 جولائی تک ملتوی کردی۔
