اسلام آباد (صباح نیوز/آن لائن/اے پی پی) اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے وفاقی بجٹ کے حوالے سے 500 سے زایدکٹوتی کی تحاریک جمع کروادیں۔ وفاقی کابینہ کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا گیا وزارتوں کے بعض منسلک اداروں کی کارکردگی کو ناقص قراردیتے ہوئے 100 روپے بجٹ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ سنی اتحاد کونسل، جے یو آئی(ف) نے 7 وفاقی وزارتوں کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے کٹوتی کی تحاریک جمع کرائی ہیں۔ 7 وزارتوں میں کابینہ ڈویژن، توانائی، خزانہ، خارجہ، داخلہ، قانون اور وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں حکومتی جماعت نے فلسطین کے لیے پارلیمانی فنڈ قائم کرنے کا مطالبہ کردیا اوآئی سی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے، مسلم قیادت نے فلسطینیوں کو تنہا چھوڑ دیا ہے‘ اسلامی ممالک اجلاس طلب کرتے ہیں مگر کوئی فیصلہ کیے بغیر اُٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ پیر کو بجٹ اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی صدارت میں ہوا۔ مسلم لیگ(ن) کے رکن غلام محمدلالی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں فلسطینی مجاہدین کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ اپوزیشن کے بعد پیپلز پارٹی نے بھی بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس میں عوام کے لیے کچھ نہیں ہے جبکہ حکومتی اراکین نے مشکل حالات میں عوام دوست بجٹ لانے پر وزیر خزانہ کو سراہا ہے، پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شاہدہ رحمانی نے کہا کہ اس ملک کا پیدا ہونے والا ہر بچہ 2 لاکھ 80 ہزار روپے کا مقروض ہے‘ دنیا میں بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان کے لیے وظائف مقرر کیے جاتے ہیں ہم اپنے بچوں کو قرض میں دھکیلنے کا تحفہ دیتے ہیں ۔ ایم کیو ایم کے رکن محمد اقبال خان نے کہا کہ خدارا پشتون کارڈ نہ کھیلیں لوگوں کو فوج سے نہ لڑوائیں۔ سنی اتحاد کونسل کے رکن قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ آپریشن عزم استحکام پر ہم نے کوئی پختون کارڈ نہیں کھیلا، ہم نے اپنے مظلوم لوگوں کی بات کی ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے رکن شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ 200 یونٹ سے زاید بجلی استعمال کرنے والوں کا ٹیرف آئندہ 6 ماہ تک برقرار رکھنا بہت بڑی زیادتی ہے، اس زیادتی کا تدارک ہونا چاہیے۔ پیر کو بجٹ2024-25ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے ۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی۔ ایوان میں آمد پر ارکان نے ڈیسک بجاکر ان کا خیرمقدم کیا۔
