سوات(خبر ایجنسیاں +مانیٹرنگ ڈیسک) مدین میں مشتعل افراد کی جانب سے توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص کو زندہ جلانے اور تھانے پر حملے کی تحقیقات میں مطلوب اہم ملزم گرفتار کر لیا گیا۔چند روز قبل مدین میں مشتعل افراد نے توہین مذہب کے الزام میں ایک شخص کو زندہ جلا کر تھانے کو بھی آگ لگا دی تھی۔ ڈی پی او سوات زاہد اللہ خان نے بتایا تھا کہ قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی کے الزام میں علاقہ مکینوں نے شہری پر تشدد کیا اور اسے برہنہ کرکے سڑکوں پر گھسیٹا اور جب مدین پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کیا تو مشتعل ہجوم نے تھانے کو بھی آگ لگا دی اور توڑ پھوڑ کی تھی جبکہ مشتعل افراد ملزم کو تھانے سے نکال کر لے گئے تھے۔واقعے کے حوالے سے ایس پی انویسٹی گیشن بادشاہ حضرت کے مطابق مدین واقعے میں تھانے کو نقصان پہنچا جبکہ کئی گاڑیوں کو بھی جلایا گیا ہے تاہم اب پولیس نے مدین میں جلاؤگھیراؤ ، تھانے پر حملے کی تحقیقات میں مطلوب اہم ملزم کوگرفتار کرلیا ہے جسے سوات کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ ایس پی انویسٹی گیشن کا بتانا ہے کہ ہنگامہ آرائی اور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمے میں مزید 10 مشتبہ افرادکوحراست میں لیا گیا ہے جبکہ مقدمے میں گرفتار 23 میں سے 21 افرادکو آج عدالت میں پیش کیا جائے گا۔مدین واقعے سے متعلق 2 مقدمات پولیس کی مدعیت میں درج ہیں، ایک ایف آئی آر مبینہ توہین کے مرتکب شخص کے خلاف جبکہ دوسری حملہ آوروں کے خلاف درج ہے۔دریں اثناچیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر علامہ راغب نعیمی نے سوات واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی گھناؤنا فعل قرار دے دیا۔ جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ راغب نعیمی کا کہنا تھا کسی بھی فرد یا گروہ کو شرعی، قانونی اور اخلاقی طور پر کسی بھی شخص کو سزا دینے کی اجازت نہیں ہے۔علامہ راغب نعیمی کاکہنا تھا کہ بہت سے معاملات میں عدالتیں کیسز کو صحیح طور پر منطقی انجام تک نہیں پہنچاتی جس سے لوگوں میں یہ بات پنپ رہی ہے کہ اس طرح کے فیصلے ہم نے خود کرنے ہیں لیکن سوات، سرگودھا، جڑانوالہ، سیالکوٹ میں ہونے والا یہ عمل کسی طرح شرعی نہیں اور نا ہی قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ سوات معاملے میں فرانزک اور موبائل لوکیشن سے ملزمان کا تعین کیا جائے اور واقعے میں ملوث ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ شرعی طور پر کسی کو جلا کر مار دینے کی بہت بڑی سزا ہے، سوات کے علاقے مدین میں پیش آنے والے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
